تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 26

پہلے زمانہ کے شمس سے بڑا ہو۔مثلاً آگ اپنی ذات میںایک شمس کا وجود رکھتی ہے کیونکہ خود جل رہی ہوتی ہے اس کا نور مکتسب نہیں ہوتا بلکہ اندر سے پیدا ہوتا ہے مگر قمر کی روشنی کے سامنے وہ بالکل ماند ہوتی ہے۔جب ہم آگ جلاتے ہیں تووہ صرف دو یا چار گز جگہ کو روشن کر تی ہے اس سے زیادہ نہیں اور اگر ہم اسے اونچا بھی لے جائیں تب بھی وہ زیادہ دور تک اپنی روشنی کو نہیںپھیلا سکتی بلکہ اگر ہم اسے کافی اونچا لے جائیں تو وہ شاید تاریکی ہی بن جائے اور اس کا اپنا وجود بھی دکھائی نہ دے۔آگ اور چاند کی روشنی میں یہ فرق اس لئے ہوتا ہے کہ گو قمر تابع ہے مگر اس کا متبوع اس قدر روشن ہے اور دوسری روشنیوں سے اس قدر زیادہ چمک اس میں پائی جاتی ہے کہ اس کا قمر بالذات روشنیوں سے زیادہ روشن ہو جاتا او ر دوسرے شموس سے بھی اپنی روشنی میں بڑھ جاتا ہے۔حقیقت وہی ہے جو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتب میں بار ہا بتائی ہے کہ شموس ایسے لوگ بنائے جاتے ہیںجو اقدام اور جنگی قوت اور سیاسی اقتدار کا ملکہ اپنے اندر رکھتے ہیں کیونکہ شریعت کے نفاذ کے لئے ان قابلیتوں کا موجود ہونا ضروری ہوتا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے کہ ان میں یہ سب قابلیتیںپائی جاتی تھیں۔لیکن قمر ایسے وجود بنائے جاتے ہیں جو سوز و گداز اور نرمی اور نصیحت کا مادہ اپنے اند ر زیادہ رکھتے ہیں اس وجہ سے ہمیشہ ان کی زندگیاں مختلف ہوتی ہیں اور باوجود ایک کام کرنے کے دونوں دور اس طرح مختلف نظر آتے ہیںجس طرح دو الگ الگ وجود ہوتے ہیں۔مثلاً حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰیؑ دونوں نے ایک کام کیا ہے مگر موسٰی اور عیسٰیؑ کی زندگیاں دیکھی جائیں تو وہ بالکل الگ قسم کی نظر آتی ہیں۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگیوں کو دیکھا جائے تو ان میں بھی ایک نمایا ںفرق نظر آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں شروع سے ہی اقدام اور جنگی قوت اور تحکیم نظام کا مادہ نمایا ں تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام میں سوز و گدازاور نرمی کا مادہ پایا جاتاتھا اور آپ اپنی جماعت کو بھی یہی نصیحت کرتے تھے کہ سیاست سے کوئی تعلق نہ رکھو تمہاراکام یہی ہے کہ تم نرمی اور محبت سے اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچا ئو یہ ایسا ہی ہے جیسے سورج کی روشنی ہی قمر کے ذریعہ آتی ہے مگر ان دونوں روشنیوں میں کتنا عظیم الشان فرق ہوتا ہے سورج کی روشنی دیکھو تو وہ بالکل الگ نظر آتی ہے اور چاند کی روشی دیکھو تو وہ الگ نظر آتی ہے۔یہی چیز ہے جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلالی اور جمالی رکھا ہے شمس اپنے اندر جلالی رنگ رکھتا ہے اور قمر اپنے اندر جمالی رنگ رکھتا ہے۔یوں شمس میں بھی ایک حد تک جمال پایا جاتا ہے اور قمر میں بھی ایک حد تک جلال پایا جاتا ہے مگر باوجود اس کے شمس کی غالب قوت جلالی ہوتی ہے اور قمر کی غالب قوت جمالی ہوتی ہے پس چونکہ یہ دونوں الگ الگ فطرتیں ہیں