تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 295

وجہ سے بعد دوپہر مجرموں کو کافی دیر تک صلیب پر لٹکائے رکھنا قریباً ناممکن تھا۔گویا جیوش انسائیکلوپیڈیا والا نہ صرف جمعہ کے دن حضرت مسیحؑ کو صلیب پر لٹکانا ایک عجیب بات سمجھتا ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ صلیب پر اس دن زیادہ دیر تک کوئی شخص لٹکایا ہی نہیں جاسکتا تھا۔اس بنا پر ہمارا حق ہے کہ اگر انجیل یہ کہتی ہے کہ حضرت مسیحؑ کو تین گھنٹے صلیب پر لٹکایا گیا تو ہم یہ کہیں کہ آپ کو صرف ڈیڑھ دو گھنٹے لٹکایا گیا تھا۔کیونکہ سبت کے قرب کی وجہ سے زیادہ دیر تک کسی شخص کو صلیب پر لٹکایا نہیں جاسکتا تھا۔بہرحال اگر دو یا تین گھنٹے آپ کو لٹکایا گیا تب بھی اس سے آپ کی موت واقع نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ صلیب پر بعض دفعہ سات سات دن تک بھی لوگ زندہ رہتے تھے اور وہ اس وقت تک نہیں مرتے تھے جب تک ہتھوڑے مار مار کر ان کی ہڈیوں کا گودا نہ نکالا جاتا۔دو۲سرا ثبوت اس امر کا کہ پیلاطوس نے حضرت مسیحؑ کو بچانے کے لئے صلیب کے وقت بعض ایسے افسروں کی وہاں ڈیوٹیاں مقرر کردی تھیں جو حضرت مسیحؑ پر ایمان لاچکے تھے۔یہ ہے کہ انجیل میں لکھا ہے جب حضرت مسیحؑ کو صلیب پر لٹکایا گیا تو ’’وے جو ادھر سے جاتے تھے سر ہلاتے تھے اور یہ کہہ کے اسے ملامت کرتے تھے کہ واہ تو جو ہیکل کو ڈھاتا اور تین دن میں بناتا تھا اپنے تئیں بچا اور صلیب پر سے اتر آ۔اسی طرح سردار کاہنوں نے بھی آپس میں فقیہوں کے ساتھ ٹھٹھے کرتے ہوئے کہا اس نے اوروں کو بچایا اپنے تئیں بچانہیں سکتا۔بنی اسرائیل کا بادشاہ مسیحؑ اب صلیب پر سے اتر آوے تاکہ ہم دیکھیں اور ایمان لاویں‘‘۔(مرقس باب ۱۵ آیت ۲۹ تا ۳۲)۔غرض بقول انجیل اس وقت لوگ آپ پر مذاق کررہے تھے اسی دوران میں حضرت مسیحؑ شدت درد کی وجہ سے چلائے اور بقول بائیبل انہوں نے ’’دم توڑ دیا‘‘۔اس وقت کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے انجیل میں لکھا ہے ’’اس صوبہ دار نے جو اس کے سامنے کھڑا تھا اسے یوں چلاتے اور دم چھوڑتے دیکھ کے کہا کہ یہ شخص سچ مچ خدا کا بیٹا تھا‘‘ (مرقس باب ۱۵آیت ۳۹)۔اب بتائو کیا یہ الفاظ کوئی ایسا شخص کہہ سکتا تھا جو حضرت مسیحؑکا مخالف ہوتا۔اگر وہ آپ کو فقیہوں اور فریسیوں کی طرح جھوٹا سمجھتا تو اسے کہنا چاہیے تھا کہ دیکھو آج ثابت ہوگیا ہے کہ یہ شخص خدا کا بیٹا نہیں تھا۔ہم نے اسے صلیب پر لٹکایا اور اس کی جان لے لی۔مگر وہ یہ نہیں کہتا وہ آپ پر ہنسی نہیں اُڑاتا، وہ آپ کے دعویٰ کی تکذیب نہیں کرتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ ’’یہ شخص سچ مچ خدا کا بیٹا تھا‘‘۔یہ اس امر کا ایک واضح اور کھلا ثبوت ہے کہ صلیب کے وقت پیلاطوس نے ارادتاً ایسے افسر اور سپاہی مقرر کئے تھے جو حضرت مسیحؑ پر ایمان لاچکے تھے تاکہ آپ کی تکلیف کو وہ زیادہ سے زیادہ کم کرسکیں اور صلیب سے اتارنے کے بعد آپ کی حفاظت اور علاج میں وہ حصہ لے سکیں۔بہرحال مسیحؑ بوجہ نازک