تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 289

سامان کیا کہ آپ بچے رہے۔اس کے بعد جب مچھلی نے آپ کو اُگلا اس وقت بھی یہ خطرہ ہو سکتا تھا کہ آپ ہلاک ہو جاتے۔اُگلتے وقت بھی خدا تعالیٰ نے آپ کو اس حادثہ سے بچا لیا۔پس مر کر زندہ ہونا یونہ نبی کا معجزہ نہیں بلکہ ان تین مقامات پر یونہ نبی کا زندہ رہنا اس کی صداقت کا عظیم الشان نشان تھا۔پس مسیحؑ اگر یہی معجزہ اپنی قوم کو دکھانا چاہتا تھا تواس کے معنے یہ تھے کہ وہ یونہ کی طرح زندہ ہی قبر میں جائے گا۔زندہ ہی وہاں رہے گا اور زندہ ہی قبر سے نکلے گا۔بہرحال اس کی صداقت اس بات سے وابستہ تھی کہ وہ ان تین مقامات پر موت سے محفوظ رہتا اور یہی وہ نشان تھا جس کے دکھائے جانے کا آپ نے یہود کے سامنے اعلان کیا اور بتایا کہ جس چیز کے ذریعہ میں قبر میں جائوںگا وہ ہمیشہ موت کا موجب ہوتی ہے مگر میرے لئے وہ موت کا موجب نہیں ہو گی۔پھر قبر میں رکھا جانا موت کا موجب ہوتا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ مجھے قبر میں رکھا جائے گا پھر بھی میں نہیں مروں گا۔بلکہ جس طرح یونہ مچھلی کے پیٹ میں تین رات دن رہنے کے باوجود بچ گیا اسی طرح میں بھی قبر میں تین رات دن رہنے کے باوجود زندہ رہوں گا۔پھر تیسرا نشان یہ ہو گا کہ میں اس قبر میں سے زندہ نکل آئوں گا۔حالانکہ کسی سرکاری مجرم کا جسے پھانسی کا حکم دیا جاچکا ہو زندہ نکل کر بھاگ جانا اس کے لئے بہت بڑے خطرات کا موجب ہوسکتا ہے اور گورنمنٹ اسے پھر گرفتار کرکے سزا دے سکتی ہے۔مگر آپ فرماتے ہیں جس طرح یوناہ نبی کو مچھلی نے زندہ اُگلا اسی طرح میں بھی قبر میں سے زندہ نکل آئوں گا۔یونہ نبی کے متعلق بھی یہ خطرہ تھا کہ اُگلتے وقت مچھلی اسے ہلاک کردے مگر خدا تعالیٰ نے اسے محفوظ رکھا اور وہ سلامتی کے ساتھ اس کے پیٹ میں سے نکل آیا۔اسی طرح میرے متعلق بظاہر یہ خطرہ ہوگا کہ گورنمنٹ مجھے گرفتار کرلے مگر یونہ نبی کی طرح خدا میرے لئے ایسے سامان پیدا کردے گا کہ میں بغیر کسی خطرہ کے زندہ نکل آئوں گا اور کوئی شخص مجھے پکڑ کر مار نہیں سکے گا۔یہ امر ظاہر ہے کہ مسیحؑ کے قبر میں جانے کا راستہ اس کا صلیب پر کھینچا جانا تھا۔پس اگر مسیحؑ کی یہ پیشگوئی صحیح تھی تو اس کے معنے صرف یہ تھے کہ مسیحؑ یہ پیشگوئی کرتا ہے کہ صلیب جو موت کا ذریعہ ہے اس پر لٹک کر بھی میں زندہ بچ رہوں گا اور جس طرح مچھلی نے یونہ کو چبا کر مارا نہیں بلکہ اسے زندہ پیٹ میں اتار دیا اسی طرح صلیب مجھے مارے گی نہیں بلکہ زندہ ہی مجھے قبر میں بھجوادے گی۔دوسرا ذریعہ موت کا قبر ہوتی ہے۔اس کے متعلق مسیح یہ پیشگوئی کرتا ہے کہ جس طرح یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا میں زمین کے پیٹ میں زندہ رہوں گا اور پھر تیسری پیشگوئی مسیح یہ کرتاہے کہ جس طرح یونہ نبی مچھلی کے پیٹ سے زندہ نکلا اور خدا نے آخری مرتبہ بھی اسے موت سے محفوظ رکھا۔اسی طرح میرے ساتھ واقعہ ہوگا میں بھی