تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 279
نجات پاتا ہے تو آدمؑ نے گناہ کس طرح کیا جبکہ آدمؑ کا بھی نہ باپ تھا نہ ماں۔بن باپ پیدائش اگر انسان کو پاکیزہ بناتی ہے تو آدمؑ بھی بے گناہ ہونا چاہیے تھا پھر یہ ورثہ کا گناہ کہاں سے آگیا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک جسم میں سے نکلنے کی وجہ سے انسان گنہگار بن جاتا ہے تو جیسے باپ کے اندر سے اسے گناہ پہنچتا ہے ویسے ہی اسے ماں سے گناہ پہنچ سکتا ہے؟اور بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ اصل میں حوّا سے ظاہر ہوا تھا۔چنانچہ پیدائش باب۳کا بائیبل کے چھاپنے والوں نے ان الفاظ میں خلاصہ درج کیا ہے ’’اس بیان میں کہ سانپ حوّا کو فریب دیتا انسان گناہ سے شکستہ حال ہو جاتا۔خدا مرد و عورت دونوں کواپنے حضور میں بلاتا۔سانپ پر لعنت بھیجی جاتی۔عورت کو خاص نسل کا وعدہ۔انسان کی سزاکا احوال۔ان کی پہلی پوشاک۔ان دونوں کا باغ عدن سے نکالا جانا۔‘‘ پھر خود اس باب میں یوں لکھا ہے ’’اور سانپ میدان کے سب جانوروں سے جنہیں خداوند خدا نے بنایا تھا ہوشیارتھا۔اور اس نے عورت سے کہا کیا یہ سچ ہے کہ خدا نے کہا کہ باغ کے ہر درخت سے نہ کھا نا۔عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھا تے ہیں مگر اس درخت کے پھل کو جو باغ کے بیچوں بیچ ہے خداوند نے کہا کہ تم اس سے نہ کھا نا اور نہ اسے چھونا ایسا نہ ہو کہ مر جائو۔تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہر گز نہ مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن اس سے کھائو گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک وبد کے جاننے والے ہوئو گے اور عورت نے جوں دیکھا کہ وہ درخت کھانے میں اچھا اور دیکھنے میں خوشنما اور عقل بخشنے میںخوب ہے تو اس کے پھل میں سے لیا اور کھایااور اپنے خصم کو بھی دیا اور اس نے کھایا‘‘ (پیدائش باب۳آیت۱ تا۶) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ شیطان نے پہلے حوّا کو ورغلایا اور حوّاکے کہنے سے آدم بھی اس غلطی میںشریک ہو گیا چنانچہ جب خدا نے آدم سے کہاکہ ’’کیا تو نے اس درخت سے کھایا جس کی بابت میں نے تجھ کو حکم کیا تھا کہ اس سے نہ کھانا‘‘ تو آدم نے جواب دیا حضور اس میں میرا کیا قصورہے آپ نے جو عورت مجھے دی تھی اور جس کے متعلق کہا تھا کہ یہ تیری ساتھی ہو گی اس نے جب مجھے درخت کا پھل دیا تو میں نے سمجھا کہ یہ خدا کا عطا کیا ہوا ساتھی ہے اس کی دی ہوئی چیز کو میں رد نہ کروں ایسا نہ ہو کہ میں گنہگار بن جائوںچنانچہ میں نے پھل لیا اور کھا لیا۔بائیبل میں لکھا ہے ’’آدم نے کہا کہ اس عورت نے جسے تو نے میری ساتھی کر دیا مجھے اس درخت سے دیا اور میں نے کھا یا تب خدا وند خدا نے عورت سے کہا کہ تو نے یہ کیا کیا۔عورت بولی کہ سانپ نے مجھ کو بہکایاتو میں نے کھایا‘‘ (پیدائش باب ۳آیت۱۱تا۱۳) ان حوالجات سے صاف پتہ لگتا ہے کہ شیطان پہلے حوّا کے پاس گیا اور اسے ورغلایا۔اس کے بعد حوّا نے آدمؑ کو ورغلایا۔گویا زیادہ