تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 278
(پیدائش باب۲۲آیت۱۷،۱۸) یہ پیش گوئی حضرت مسیحؑ کے متعلق تھی اور انہی کے ذریعہ پوری ہوئی ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ حضرت مسیحؑ پر ایمان لے آئے تھے۔میں نے کہا اس پیش گوئی میں یہ ذکر ہے کہ آنے والا ابراہیمؑ کی نسل میں سے ہو گا اور تم جانتے ہو کہ اولاد ہمیشہ مرد کے نطفے سے ہو تی ہے اس لئے وہی شخص اس پیش گوئی کا مصداق سمجھا جا سکتا ہے جو مرد کے نطفہ سے ہو۔اس وقت دنیا میں دو مدعی کھڑے ہیںاور دونوں اس امر کے دعویدار ہیں کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیش گوئی کا مصداق ہیں ایک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کا باپ تھا اور ایک مسیحؑ ہیں جن کا کوئی باپ نہیں تھا۔اب تم خود ہی سمجھ سکتے ہو کہ بائیبل کی یہ پیش گوئی ان دونوں میں سے کس پر چسپاںہوگی آیا اس پر چسپاں ہوگی جس کا کوئی باپ ہی نہیںتھا یا اس پر چسپاں ہوگی جس کا باپ تھا اور جو واقعہ میں ابراہیم کی نسل میں سے تھا۔بائیبل بتا رہی ہے کہ آنے والا ابراہیمؑ کی نسل میں سے ہو گا یعنی وہ مرد کے نطفہ سے پیدا ہو گا جو شخص مرد کے نطفہ سے ہی نہیں وہ ابراہیمؑ کی اولاد میں سے کس طرح سے ہوگیا؟ عیسائیوں کو یہاں سخت مشکل پیش آئی ہے۔وہ ایک طرف یہ بھی چاہتے تھے کہ اس پیش گوئی کو حضرت مسیحؑ پر چسپاں کریں اور دوسری طرف یہ بھی دیکھتے تھے کہ حضرت مسیحؑ کا کوئی باپ نہیں تھا جس کی بنا پر وہ انہیں ابراہیمی نسل میں سے قرار دیں۔آخر اس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ انجیل میں لکھ دیا یوسف نجار مسیحؑ کا باپ تھا اور پھر اس کا نسب نامہ انہوں نے دائود سے ملا دیا حالانکہ وہ ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسیحؑ کنواری کے بطن سے پیدا ہوا۔بہر حال اوّل توحضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس پیش گوئی میں کفارئہ مسیحؑ کا کوئی ذکر نہیں نہ اس امر کا کوئی ذکر ہے کہ وہ اس کفارہ پر ایمان لائے تھے صرف ابراہیمؑ کی اولاد کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ میں اسے برکت دوں گا۔مگر سوال یہ ہے کہ اس پیش گوئی کو جب ہم کسی شخص پر چسپاں کریں گے تو اس شخص پر کریں گے جس کا کوئی باپ ہی نہیں یا اس شخص پر چسپاں کریں گے جس کا باپ موجود ہے۔یہ بات ظاہر ہے کہ یہودی عقیدہ کے ماتحت ماں کی طرف سے نسل نہیں چلتی بلکہ باپ کی طرف سے نسل چلتی ہے اس لئے جس شخص کا باپ موجود ہے وہی اس پیش گوئی کا مصداق ہو سکتا ہے نہ وہ جس کا کوئی باپ ہی نہیں اور جو ابراہیمی نسل میں سے سمجھاہی نہیں جا سکتا۔تیسرا اعتراض ان لوگو ں پر یہ ہے کہ مسیحؑ کس طرح پاک ہوا؟ وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ مسیح ؑچونکہ بے باپ پیدا ہوا اس لئے وہ گناہ سے پاک تھا۔اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بے باپ کے پیدا ہو نے سے انسان گناہ سے نجات پا جاتا ہے تو ملک صدق سالیم بھی تو بے باپ پیدا ہوا تھا بلکہ اس کی تو ماں بھی نہ تھی اس کے متعلق کیوں نہیں کہا جاتا کہ وہ گناہ سے پاک تھا؟پھر سوال یہ ہے کہ اگر بے باپ پیدا ہونے سے انسان گناہ سے