تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 277
پیش گوئیاںخود زیر بحث ہیں۔پھر سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مان لینے سے یہ کیونکر معلوم ہو گیا کہ نوح اورحنوک بھی یہ جانتے تھے کہ آئندہ زمانہ میں خدا کا ایک بیٹا ظاہر ہونے والا ہے؟ یا تو بائیبل میں یہ مسئلہ ان الفاظ میں بیان ہو تا کہ آنے والے خدا کے بیٹے پر ہر نبی ایمان لایا تھا پھر چاہے یہ ذکر نہ ہوتا کہ حنوک مسیح پر ایمان لایا تھا یا نہیںیا نوحؑمسیح پر ایمان لایا تھا یا نہیں ہم کہتے کہ جب بائیبل نے کہہ دیا ہے کہ ہر نبی خدا کے بیٹے پر ایمان لاتا رہا ہے تو یہ سوال پیدا ہی نہیں ہو تا کہ نام بنام ہر نبی کے متعلق یہ ثابت کیا جائے کہ وہ خدا کے بیٹے پر ایمان لاتا تھا۔مگر بائیبل نے ایک طرف تو ایسا کوئی اصل پیش نہیں کیا اور دوسری طرف اس نے حنوک کا واقعہ تو بیان کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔مگر اس امر کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ حنوک خدا کے بیٹے پر بھی ایمان لایا تھا۔اسی طرح آدمؑ کے متعلق یہ تو ذکر ہے کہ وہ خدا کا مقبول رہا مگر بائیبل میں یہ کہیں ذکر نہیں کہ آدم کو خدا نے یہ اطلاع دی تھی کہ میرا بیٹا دنیا میں آنے والا ہے۔جو لوگوں کے گناہوں کے بدلے پھانسی پائے گا تم اس پر ایمان لے آئو۔اسی طرح یسعیاہ اور حزقیل وغیرہ انبیاء ہیں جن کی پاک بازی کا تو بائیبل میں ذکر آتا ہے مگر مسیحؑکے کفارہ پر ایمان لانے کا ان کے متعلق کہیں ذکر نہیں؟ بلکہ اور تو اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بھی بائیبل میں یہ کہیں نہیں بیان کیا گیا کہ وہ کفارئہ مسیح پر ایمان لائے تھے۔اگر ان کی کوئی پیش گوئی نکل بھی آئے تو اس سے صرف اتنا ثابت ہو گا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ خبر دی تھی کہ میرے بعد مسیحؑ آئے گا۔یہ کہیں سے ثابت نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے یہ کہا ہو کہ مسیح لوگوں کو گناہوں کی سزاسے بچانے کے لئے اپنے آپ کو قربان کرے گا اور میں اس کفارہ پر ایمان لاتا ہوں۔پس بفرض محال اگر حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی کوئی پیشگوئی ثابت بھی ہو جائے تو اس سے صرف اتنا پتہ لگے گا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آمد مسیح کی خبر دی تھی اس سے ان کی نجات کس طرح ہو گئی؟اور وہ گناہ سے بچ کس طرح گئے؟ کفارہ کا مسئلہ جو عیسائیوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے اس کی بنیاد اس امر پر نہیں کہ خدا کے بیٹے پر ایمان لایا جائے بلکہ اس کی بنیاد اس امر پر ہے کہ خدا کے بیٹے کے مصلوب ہونے اور اس کے کفارہ ہونے پر ایمان لایا جائے مگر کفارئہ مسیح پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایمان لانے کا بائیبل سے کہیں ثبوت نہیں ملتا۔پھر اگر حضرت ابراہیمؑ کی پیش گوئیوں کو لو تو وہ بھی حضرت مسیحؑپر چسپاںنہیں ہوتیں۔مجھ سے ایک دفعہ ایک پادری کی گفتگو ہوئی میں نے اس سے کہا۔پہلے لوگ کس طرح نجات پا گئے تھے؟کہنے لگا وہ مسیحؑ پر ایمان لاتے تھے۔میں نے کہا کیا ابراہیمؑ بھی ایمان لائے تھے؟اس نے کہا ہاں!حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ ’’تیری نسل اپنے دشمنوں کے دروازہ پر قابض ہو گی اور تیری نسل سے زمین کی ساری قومیںبرکت پائیں گی‘‘