تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 276
کیوں ہوئی؟عیسائی اس سوال کا ایک فلسفیانہ جواب دیتے ہیں جو ہماری جماعت کے دوستوں کو مد نظر رکھنا چاہیے وہ کہتے ہیں ہما را یہ دعویٰ نہیں کہ محض مسیحؑپر ایمان لانے کی وجہ سے گناہ جاتا رہتا ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان کے اندر جو نیک بننے کی خواہش پائی جاتی ہے اگر کفارئہ مسیح پر ایمان لانے کے بعد یہ خواہش انسان کے دل میں پیدا ہو تو وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔وہ کہتے ہیں اگر تم ہمیں کروڑوں عیسائی بھی گنہگار دکھا دو تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں تم بھی تو یہ نہیں کہتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد ہر شخص کے اندر نیکی پیدا ہو جاتی ہے۔بلکہ تم یہ کہتے ہو کہ انسان کے اندر اس ایمان کی وجہ سے ایک مقدرت پیدا کر دی جاتی ہے جس سے کا م لے کر وہ اگر نیک بننا چاہے تو بن سکتا ہے۔اسی طرح ہم کہتے ہیں مسیحؑکے کفارہ سے پہلے کوئی شخص نجات نہیں پا سکتا تھا کیونکہ اس میں ورثہ کے گناہ کا اثر تھا جو اسے ترقی سے روک رہا تھا۔لیکن مسیح کے کفارہ پر ایمان لانے کے بعد اس کی نجات کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ہم امکانِ نجات کے مدعی ہیں اس بات کے مدعی نہیں کہ ہر شخص جو کفارہ مسیحؑپر ایمان لائے گا وہ خواہ اپنی نیک قوتوں کو استعمال نہ کرے تب بھی نجات پا جائے گا۔جس طرح آدمؑ نے گناہ کیا تھا اسی طرح اب بھی لوگ گناہ کر سکتے ہیں۔ہاں اگر وہ اس سے بچنا چاہیں تو بچ بھی سکتے ہیں۔کیونکہ پچھلا بوجھ اتر گیا ہے اور آئندہ کے لیے ایمان نے ان کے اندر نیکی کی مقدرت پیدا کر دی ہے۔یہ جواب ہے جو عیسائی لوگ دیا کرتے ہیں۔اس کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے۔کہ بائیبل اس بات پر گواہ ہے کہ مسیحؑکی آمد سے پہلے بھی کئی لوگ گناہ سے بچا کرتے تھے۔جب پہلے لوگ گناہ سے بچا کرتے تھے تو اب بغیر کفارئہ مسیح پر ایما ن لانے کے وہ گناہوں سے کیوں بچ نہیں سکتے اور جب کہ پہلے لوگ بغیر اس کفارہ کے نجات پا گئے اور خدا کے ساتھ ساتھ چلنے والے بنے بلکہ بقول بائیبل بعض موت سے بھی بچے رہے جیسا کہ ایلیا ہ کے متعلق بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ’’وہ بگولے میں آسمان پر چلا گیا‘‘ (۲سلاطین باب۲آیت۱۲) تو پھر ورثہ کا گناہ کہاں گیا اور جب بعد کے لوگ بھی گناہ میں مبتلا رہے تو پھر کفارہ کا فائدہ کیا ہوا؟ اس کا جواب عیسائی لوگ یہ دیتے ہیں کہ مسیح کی آمد سے پہلے جو لوگ گناہوں سے بچتے تھے وہ اس لیے بچتے تھے کہ مسیحؑکے کفارہ پر ایمان لے آئے تھے۔خدا تعالیٰ سے ان کو خبر مل جاتی تھی کہ آئندہ زمانہ میں خدا کا ایک بیٹا آئے گا لوگ اسے صلیب پر لٹکائیں گے اور وہ دنیا کے گناہوں کے بدلے اپنے آپ کو قربان کر دے گا۔وہ یہ خبر سنتے اور کہتے اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا چنانچہ جب ابراہیمؑ نے کہا کہ میں آنے والے مسیح پر ایمان لاتا ہوںتو وہ گناہ سے بچ گیا۔اس پر وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعض پیش گوئیاں بھی بیان کرتے ہیںجو ان کے نزدیک حضرت مسیحؑپر چسپاں ہوتی ہیں۔اس کا جواب یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اوّل تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی