تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 275

’’وہ پہلے اپنے نام کے معنوں کے موافق راستی کا بادشاہ ہے اور پھر شاہ سالیم یعنی سلامتی کا بادشاہ (عبرانیوں باب۷آیت۲) مطلب یہ ہے کہ جیسا اس کا نام تھا ویسے ہی اوصا ف اس کے اندر پائے جاتے تھے۔اس کا نام بھی ملک صدق تھا اورواقعہ میں بھی راستی کا بادشاہ تھا اور پھر جس طرح وہ ظاہر میںشاہ سا لیم تھا اسی طرح معنوی لحاظ سے بھی وہ سلامتی کا بادشاہ تھا۔آگے لکھا ہے ’’یہ بے باپ بے ماںبے نسب نامہ جس کے نہ دنوںکا شروع نہ زندگی کا آخر مگر خدا کے بیٹے کے مشابہ ٹھہر کے ہمیشہ کاہن رہتا ہے‘‘ (عبرانیوںباب۷آیت۳) گویا ملک صدق سالیم جو راستی اور سلامتی کا بادشاہ تھا وہ بے باپ بھی تھا اور بے ماں بھی۔نہ اس کی زندگی کا آغاز تھا اور نہ اس کا کوئی انتہاء اور وہ خدا کے بیٹے کے مشابہ تھا۔ایسا شخص تو یقیناً سب سزائوں سے بچا ہوا تھا۔یہاںکوئی عیسائی کہہ سکتا ہے کہ ملک صدق سالیم نے اس لیے نجات پائی تھی کہ وہ بے باپ اور بے ماںتھا ورثہ کا گناہ اسے حاصل نہ ہوا تھا مگر سوال یہ ہے کہ اگر بے باپ اور بےماںمصلحین پہلے سے دنیا کو مل چکے تھے تو پھر مسیح کی کیا ضرورت تھی۔تمہارا مسیح کی معصومیت اور اس کی قربانی پر زور دینا اسی لئے ہے کہ تم سمجھتے ہو دنیا کے لیے کوئی ایسا مصلح چاہیے تھا جو بے گناہ ہو اور چونکہ آدم سے لے کر مسیح تک کوئی بے گناہ مصلح نہیں آیا بلکہ ہر شخص جو پیدا ہوا وہ ورثہ کا گناہ لے کر آیا اس لیے ضروری تھا کہ خدا کا بیٹا جو بے گناہ تھا آتا اور لوگوں کے گناہوں کا کفّارہ ہو جاتا مگر عبرانیوں کا وہ فقرہ جسے اوپر درج کیا گیا ہے بتا رہا ہے کہ مسیح سے پہلے ملک صدق سالیم آیا اوروہ ایسا شخص تھا جو قطعی طور پر بے گناہ تھا نہ اس کی ماں تھی نہ باپ اور اس طرح ورثہ کے گناہ کا اس میںکوئی حصہ نہیں تھا۔اسی طرح اسحاقؑ، یعقوبؑ،یوسفؑ،موسٰی، دائودؑ سب کی نیکی اور پاک بازی کا اقرار بائیبل میں موجود ہے۔اب سوال یہ ہے کہ مسیحؑسے پہلے اگر اتنے لوگ کفارئہ مسیحؑپر ایمان لائے بغیر نجات پا گئے ہیں تو آئندہ کیوں نجات نہیں پا سکتے جس ذریعہ سے پہلوں نے نجات پائی ہے اسی ذریعہ سے بعد کے لوگ بھی نجات پاسکتے ہیں مسیحؑکی قربانی یا اس کے کفارہ کی کیا ضرورت ہے؟ بہر حال پہلے لوگوں کا نجات پاجانا ثبوت ہے اس بات کا فطرت انسانی کو کوئی گناہ ورثہ میں نہیں پہنچا اگر پہنچا ہو تا تو یہ لوگ خدا تعالیٰ کے محبوب اور اس کے مقرب نہ بن سکتے ! دوسرا سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا مسیحؑکی آمد نے کوئی ایسا تغیر پیدا کیا ہے جس سے ہم یہ سمجھ سکیں کہ انسان فطرت کے گناہ سے بچ گیا ہے؟ ظاہر ہے کہ مسیح کے بعد گناہ نے ترقی کی ہے شرک نے ترقی کی،ظلم نے ترقی کی،جھوٹ فریب اور دغا بازی نے ترقی کی اور تو اور عیسا ئی لوگ ایک دوسرے کے ظلموں کے شاکی ہو رہے ہیں پس سوال یہ ہے کہ اگر مسیحؑ کے کفارہ سے واقعہ میں ورثہ کا گناہ معاف ہو گیا تھا تو مسیحؑکے آنے کے بعد گناہ میں زیادتی