تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 270
غرض یہ عقیدہ ایسا غلط اور بے بنیاد ہے کہ اس کی جس قدر بھی تشریح کی جائے سوائے ہنسی اور مذاق کے اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔اگر کہا جائے کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ انسان نیک خواہش کرے تو معلوم ہوا کہ نیکی کا مادہ اس میں موجود ہے اور یہی ہم کہتے ہیںکہ انسان میں نیک خواہشات بھی پائی جاتی ہیں اور بری بھی۔جب کوئی شخص اپنے فطرتی تقاضوں کو عقل اور مصلحت کے ماتحت استعمال کرتا ہے تو وہ نیک کہلاتا ہے اور جب فطری تقاضوں کو عقل اور مصلحت کے خلاف استعمال کرتا ہے تو برا کہلاتا ہے ایسی صورت میں صحیح طریق یہ ہوتا ہے کہ فطرت کو ابھارا جائے اور طبعی تقاضوں کے غلط استعمال سے انسان کو بچایا جائے نہ یہ کہ انسانی فطرت کو ہی گندا اور ناپاک قرار دے دیا جائے۔بہرحال اگر بدھوں کی طرف سے کہا جائے کہ ہمارا مدعا یہ ہے کہ انسان نیک خواہش کرے تو معلوم ہوا کہ نیکی کا مادہ اس میں موجود ہے اور اس کی خواہش اسے کرنی چاہیے اور جب خواہش کرنی ثابت ہوئی تو پھر ہم سوال کریں گے کہ وہ کون سی بات فطرت میں ہے جسے برا کہا جا سکتا ہے۔فطرت میں تو جس قدر تقاضے پائے جاتے ہیں سب کے سب اچھے ہیں صرف ان کا غلط استعمال انسان کو برا بنا دیتا ہے مثلاً فطرت یہ کہتی ہے کہ کھانا کھائو وہ یہ نہیں کہتی کہ زید کا کھانا اٹھا کر کھا جائو اگر تم زید کا کھانا اٹھا کر کھا جاتے ہو تو یہ تمہارا اپنا قصور ہے فطرت نے تمہیں یہ نہیں کہا تھا کہ تم زید کا کھانا کھائو۔اس نے صرف اتنا کہا تھا کہ کھانا کھائو۔دوسرے کی روٹی اٹھا کر کھا جانے کا خیال تمہارے دل میں اس وقت آتا ہے جب تم کہتے ہو کہ روٹی میرے پاس موجود نہیںاور بھوک لگی ہوئی ہے اس وقت تم فطرت کے اس تقاضا کا غلط استعمال کرکے کسی اور شخص کا کھا نا چرا کر کھا جاتے ہو۔ورنہ فطرت نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ کھانا کھائو۔یہ نہیں کہا تھا کہ زید یا بکر کا کھانا کھا جائو۔یا مثلاً جب شادی کی خواہش انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے تو فطرت اسے اتنا ہی کہتی ہے کہ شادی کر لو۔یہ نہیں کہتی کہ کسی دوسرے کی بیوی کو اڑا لو۔یا مثلاًفطرت یہ تو کہتی ہے کہ مال خرچ کرو مگر یہ نہیں کہتی کہ بے موقعہ اور بے محل اپنا مال خرچ کرتے چلے جائو۔یہ بگاڑجو بعد میں پیدا ہوتے ہیں انسانی ماحول اور اس کے مختلف حالات کا نتیجہ ہو تا ہے۔ورنہ فطرت ان امور کی طرف انسان کی رہنمائی نہیں کرتی۔اسی طرح مثلاً شجاعت کا مادہ ہے جو فطرت میں پایا جاتا ہے۔بسا اوقات انسان اپنی جان یا اپنے مال کی قربانی کرکے دوسروں کو بڑے بڑے نقصانات سے بچا لیتا ہے لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ظلم پر آمادہ ہو جاتا ہے۔اب ظلم کوئی الگ خاصہ نہیں بلکہ شجاعت کے ایک فطری مادے کا غلط استعمال ہے۔خدا نے یہ مادہ انسان میں اس لئے رکھا تھا کہ وہ دوسروں کے لئے قربانی کرے مگر بعض دفعہ یہ اس تقاضے کا غلط استعمال کر کے دوسروں کے حقوق کو غصب کر لیتا ہے۔یا مثلاً ترقی کا جذبہ ہر انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے۔مگر جب اس جذبہ کوبرے طور پر استعمال کیا جائے تو اس سے حسد پیدا ہوتا ہے یعنی انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ صرف میں ہی آگے بڑھوں اور کوئی نہ بڑھے۔بہرحال جب فطرت میں کوئی ایسی بات نہیں رکھی گئی جسے برا کہا جا سکتا ہو۔صرف فطری جذبات اور تقاضوں کا غلط استعمال برا ہوتاہے تو سوال صرف اتنا رہ جائے گا کہ کیا خدا تعالیٰ نے شجاعت، سخاوت اور محبت وغیرہ اچھے کاموں کے لئے پیدا کی ہے یا برے کاموں کے لئے۔اگر کہو کہ برے کاموں کے لئے تو برا کام ہی نیکی ہوا کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی اس میں ہے۔ورنہ خدا تعالیٰ پر اعتراض آئے گا کہ اس نے ان قوتوں کو پیدا تو اس لئے کیا تھا کہ برے کام کئے جائیں مگر جب برے کام کئے جاتے ہیں تو وہ ناراض ہوتا ہے۔اور اگر کہو کہ اچھے استعمال کے لئے خدا تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے تو فطرت نیک ہوئی بد کس طرح ہوئی؟ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اس سے ہر گز انکار نہیں کہ وہ حالات جن میں سے انسان گزرتا ہے اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔کبھی ان حالات کی وجہ سے وہ نیکی کی طرف چلا جاتا ہے اور کبھی بدی کی طرف جھک جاتا ہے لیکن بہرحال فطرت جن چیزوں کا تقاضا کرتی ہے وہ بری نہیں ہیں۔اسی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے وام مارگی پیدا ہوئے ہیں انہوں نے اس نظریہ کا ایک اور پہلو لیا ہے۔وام مارگ کے معنے ہیں خواہش کا مذہب اور بدھ مذہب کے معنے ہیں خواہش مارنے کا مذہب۔بدھ مذہب تو اس بات پر زور دیتا ہے کہ چونکہ خواہشات بری چیز ہیں اس لئے ان کو مٹانا انسان کا اوّلین فرض ہے۔جب تک وہ اپنی خواہشات کو کلی طور پر فنا نہیں کر دیتا اس وقت تک نجات اسے حاصل نہیں ہوسکتی۔لیکن وام مارگی یہ کہتے ہیں کہ انسانی پیدائش کی غرض اس وقت پوری ہوتی ہے جب وہ اپنی خواہشات کا جائزہ لیتے ہوئے ہر خواہش کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرے۔ان کا مذہب یہ ہے کہ فطرت چونکہ خدا کی پیدا کردہ ہے اس لئے انسان کے دل میں جو خواہش بھی پیدا ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہوتی ہے مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ بے شک فطرت کو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے مگر فطرت کا ظہور تو اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔بچہ کی شکل خدا تعالیٰ نے کامل بنائی ہے لیکن کیا وہ ماں کے پیٹ میں رہائش کے وقت کئی بیماریوں اور چوٹوں سے بری شکل اختیار نہیں کر سکتا؟ اسی طرح انسانی فطرت کو حالات بد بھی بنا دیتے ہیں۔اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو خواہش بھی انسان کے دل میں پیدا ہو وہ ضرور اچھی ہوتی ہے اگر حالات نے اسے برا بنا دیا ہو گا تو لازماًاس کے دل میں بری خواہشات پیدا ہوں گی جن پر عمل اس کے جسم اور روح دونوں کے لئے مہلک ہو گا۔بہرحال وام مارگی یہ کہتے ہیں کہ اگر انسان کی فطرت نیک ہے تو اس کی ہر خواہش نیک ہے اور اگر فطرت بری ہے تو پھر جن امور کو تم برا کہتے ہو وہی نیکی کا معیار ہیں۔چنانچہ اسی بناء پر یہ لوگ پیشاب، پاخانہ، مردہ کا گوشت اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کو بھی جائز سمجھتے اور گندگی اور غلاظت کو صفائی وغیرہ پر ترجیح دیتے ہیں۔وام مارگیوں نے بھی وہ چیز جو ماحول سے پیدا ہوتی ہے اس کا نام فطرت رکھ دیا ہے حالانکہ اس کا نام فطرت نہیں۔ہم صرف ان تقاضائے بشری کے متعلق جو غیر معین ہوں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں نیکی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے یہ نہیں کہتے کہ مخصوص حالات کے ماتحت جو خواہشات انسانی قلب میں پیدا ہوتی ہیں وہ بھی نیک ہوتی ہیں۔جو تقاضے مخصوص حالات کے ماتحت انسانی قلب میں پیدا ہوں ہم اس کا نام فطرت نہیں رکھتے اور نہ قرآن نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ ضرور نیک ہوں گے مگر افسوس کہ وہ اس ٹھوکر میں مبتلا ہو گئے کہ اگر فطرت نیک ہے تو پھر جن چیزوں کو تم برا کہتے ہو وہ بری نہیں بلکہ اچھی ہیں اور اگر فطرت بری ہے تو پھر جن امور کو تم برا کہتے ہو وہی نیکی کا معیار ہیں مگر خود انسانی فطرت ان امور کا انکار کرتی ہے چنانچہ یہ لوگ بھی اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اور ظاہر ہونے سے ڈرتے ہیں جس سے ہمارے قیاس کی تصدیق ہوتی ہے۔