تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 258

یقیناً اس کی خوبی سمجھی جائے گی۔چونکہ انسان کے اندر نیکی کی قوت بھی رکھی گئی ہے اور بدی کی بھی اور وہ دونوں طرف جاسکتا ہے یعنی نیکی میں حصہ لے کر اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل کرسکتا ہے اور بدی کا ارتکاب کرکے خدا تعالیٰ کو ناراض بھی کرسکتا ہے۔اس لئے وہ شخص جو نیکی کرتا ہے خواہ بظاہر معمولی درجہ کا مومن ہو وہ عام ملائکہ پر ضرور فضیلت رکھے گا۔کیونکہ ملائکہ کا کمال ذاتی نہیں بلکہ انہیں یہ کمال اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنا بنایا مل گیا ہے۔انسان کی فضیلت ملائکہ پر اس ضمن میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ انسان کا فرد کامل ملائکہ کے فرد کامل سے بڑا ہے یا نہیں؟ مگر میرے نزدیک اس سوال کا جواب اسی آیت سے نکل آتا ہے جب خدا نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے اورملائکہ سے اسے زیادہ قوتیں عطا فرمائیں ہیں تو لازماً انسان کا فرد کامل ملائکہ کے فرد کامل سے افضل ہوگا چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف باقی انسانوں سے بلکہ تمام ملائکہ سے بھی افضل تھے۔بےشک ایک عام مومن جو گناہوں اور غلطیوں کا ارتکاب کرتا ہے اس سے ملک افضل ہوتا ہے کیونکہ گو اسے بالقوہ طاقتوں کے لحاظ سے فضیلت دی گئی تھی مگر ان قوتوں کے بالفعل ظہور میں وہ بہت پیچھے رہ گیا۔لیکن جو شخص اپنی بالقوہ طاقتوں کا نہایت اعلیٰ طریق پر اظہار کرتا ہے اس کی ملائکہ پر فضیلت سے کسی صورت میں بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ جو طاقتیں اسے ملائکہ سے زیادہ دی گئیں تھیں وہ عملی طور پر بھی اس کی طرف سے ظہو رمیں آگئیں۔اس لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء یقیناً ملائکہ کے فرد کامل سے افضل ہیں۔گو مسلمانوں کا ایک گروہ کہتا ہے کہ وہ افضل نہیں ہیں۔مگرمیرے نزدیک بغیر اس توجیہ کے کہ فِیْ کو زائد قرار دیا جائے یہ جملہ اپنی اصل شکل میں بھی درست ہے اور اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ انسان کی طرف بھی منسوب ہوسکتا ہے۔مفسرین کو شبہ یہ پڑا ہے کہ چونکہ خدا معدّل ہے اس لئے انسان کو معدّل نہیں کہا جاسکتا۔حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے لئے رئووف کی صفت بھی آتی ہے، رحیم کی صفت بھی آتی ہے، رازق کی صفت بھی آتی ہے، خلق کی صفت بھی آتی ہے، بصیر کی صفت بھی آتی ہے، سمیع کی صفت بھی آتی ہے۔اگر یہ تمام صفات انسان میں پائی جاسکتی ہیں تو اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ کی صفت اس میں کیوں نہیں پائی جاسکتی؟ جس طرح انسان رئووف اور رحیم اور رازق اور خالق اور بصیر اور سمیع ہوسکتا ہے وہ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ بھی ہوسکتا ہے مگر بہرحال اسی حد تک یہ صفات اس میں پائی جائیں گی جس حد تک انسان ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرسکتا ہے۔یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ ان صفات میں انسان خدا تعالیٰ کے مقابل میں کھڑا ہوسکتا ہے کیونکہ ہر شخص کا کام اس کی طاقتوں کے مطابق ہوتا ہے۔یہاں انسان کا خدا کے ساتھ مقابلہ نہیں بلکہ مخلوق کا مخلوق کے ساتھ مقابلہ ہے اور مضمون یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سے انسان ہی ایک ایسا وجود ہے جو اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ