تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 257
پیدا کیا ہے۔گویا ان کے نزدیک لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے انسان کو نہایت اعلیٰ درجہ کی تقویم کے ساتھ پیدا کیا ہے یعنی خدا نے اپنی تعدیل کی صفت کامل طور پر انسان کی پیدائش میں ظاہر کی ہے(روح المعانی زیر آیت لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ )۔اس کے بھی یہی معنے بن جاتے ہیں کہ خدا نے انسان کو اعلیٰ درجہ کی اعتدالی طاقتوں کے ساتھ بنایا ہے۔لیکن ساتھ ہی ایک زائد معنے یہ بھی نکل آتے ہیں کہ انسان باقی تمام مخلوق سے افضل ہے۔جب خدا نے انسان کو احسن تقویم میں بنایا ہے اور اس نے اپنی صفت تقویم کامل طور پر انسانی پیدائش میں ہی ظاہر کی ہے تو اس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نکل آیا کہ دوسری کوئی مخلوق انسان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو صوفیاء میں زیر بحث چلا آیا ہے اور انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ انسان افضل ہیں یاملائکہ۔اس کا جواب بعض لوگوں نے تو یہ دیا ہے کہ ملائکہ افضل ہیں کیونکہ ان سے کسی قسم کی بدی سرزد نہیں ہوتی لیکن بعض نے کہا ہے کہ انسان بحیثیت انسان یا بحیثیت جماعت ملائکہ سے افضل ہے۔اس لئے کہ خدا نے اس کو ایسی طاقتیں دے کر بھیجا ہے کہ اگر وہ ان کا صحیح طور پر استعمال کرے تو ملائکہ سے بڑھ جاتا ہے۔میرے نزدیک لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انسان ملائکہ سے افضل ہے۔اس لئے کہ اگر اس کے یہ معنے ہوں کہ خدا نے اپنی تقویم کی صفت کو اعلیٰ سے اعلیٰ طور پر انسان پر ظاہر کیا ہے تب بھی اس کے یہی معنے ہیں کہ خدا نے انسان کو تمام مخلوق میں سے اعلیٰ مقام پر پیدا کیا ہے اور اگر اس کا دوسرا مفہوم لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہتر سے بہتر طاقتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس کے اندر کمال درجہ کا اعتدال رکھا ہے تب بھی اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انسان ملائکہ سے افضل ہے۔کیونکہ انسان ہی وہ مخلوق ہے جس کے اندر کمال درجہ کا اعتدال پیدا کیاگیا ہے اور جسے بہتر سے بہتر طاقتوں کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا ہے۔بہرحال اس آیت سے یہ استدلال ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بحیثیت فرد نہیں بلکہ بحیثیت انسان دوسری تمام مخلوق پر اپنی بالقوہ طاقتوں کے ذریعہ فضیلت بخشی ہے خواہ وہ ملائکہ ہی کیوں نہ ہوں۔اگر ہم عقلی طور پر غور کریں تب بھی ہم اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ملائکہ انسان سے افضل نہیں ہوسکتے اس لئے کہ ملائکہ کے اندر جو نیکی یا اطاعت پائی جاتی ہے وہ جبری ہے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے دنیا میں اونچے اونچے پہاڑ کھڑے کردیئے ہیں۔بے شک وہ اونچے ہیں لیکن اس اونچائی میں پہاڑوں کی کوئی خوبی نہیں۔ہمالیہ پہاڑ یہ فخر نہیں کرسکتا کہ دیکھو میں کتنا اونچا نکل گیا ہوں کیونکہ اس کی اونچائی اور بلندی جبری ہے۔خدا نے اسے اونچا بنایا اور وہ بن گیا۔اس میں اس کے کسی ذاتی کمال یا خوبی کا دخل نہیں ہے لیکن اگر کوئی انسان اپنی کوشش اور محنت اور ورزش سے اپنے جسم کو فربہ بنالیتا ہے تو یہ