تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 256
آنے والا تھا جس میں مکہ کی حرمت کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توڑنااور اپنے لشکر سمیت اس کو فتح کرنا تھا غرض مکہ کا بلدالامین ہونا خواہ روحانی اور جسمانی لحاظ سے آمن ہونے کی صورت میں لو خواہ مکہ کے مامون ہونے کی صورت میں لو ہر طرح مکہ اگر بلدالامین بنا ہے تو فتح مکہ کے بعد۔اس سے پہلے نہ دینی لحاظ سے اس میں امن تھا نہ جسمانی لحاظ سے اس میں امن تھا اور نہ وہ خود کامل طور پر مامون سمجھا جا سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم یہ چاروں واقعات تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں ان میں سے تین واقعات تو ہوچکے ہیں اور چوتھا ابھی ہونے والا ہے۔تم گزشتہ تین واقعات سے قیاس کر سکتے ہو کہ یہ چوتھا واقعہ بھی ہونے والا ہے اوریہ شہر جو آج محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے لئے آگ ہے ہجرت کے بعد بلدالامین ہونے والا اوردنیا کو اس بات کی چوتھی شہادت مہیا کرکے دینے والا ہے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍٞ۰۰۵ یقیناً ہم نے انسان کو موزوں سے موزوں حالت میں پیدا کیا ہے۔حَلّ لغات: اَلتَّقْوِیْم اَلتَّقْوِیْم:اَلتَّعْدِیْل (اقرب) تقویم کے معنے تعدیل کے ہیں یعنی کسی چیز کو صحیح القویٰ بنانا اور ہر قسم کی کجی اور خرابی سے اس کو محفو ظ ر کھنا۔پس اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ کے معنے ہوئے اعلیٰ سے اعلیٰ اورنقص سے پاک اور بے عیب بنانا۔یہ الفاظ انسان کے لئے بطور حال استعمال ہوئے ہیں۔یعنی حَالَ کَوْنِہٖ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیمٍ یعنی انسان کو ایسا بنایا ہے کہ تعدیل و اصلاح کرنے میں بے نظیر ہے۔یہاںمفسرین کو دقت پیش آئی ہے کہ اعتدال اور تقویم پیدا کرنے والا تو خدا تعالیٰ ہے انسان ایسا کس طرح ہو سکتا ہے؟اس کا جواب بعض لوگوں نے یہ دیا ہے کہ یہاں تقویم سے مراد قِوَام ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن قویٰ کے ساتھ پیدا کیا ہے۔لیکن بعض کہتے ہیں کہ یہاں حذف مضاف ہے اور تقدیر یہ ہے کہ فِیْ اَحْسَنِ قِوَامِ التَّقْوِیْمِ یعنی تقویم کے نتیجہ میں جو قوام پید اہوتا ہے اس کا احسن انسان کو حاصل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق انسان ہے۔اور اسے دوسروں سے زیادہ قوام حاصل ہے۔اس لحاظ سے لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ کے معنے یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدائش کی صفت کا بہترین نمونہ انسان کو بنایا ہے۔بعض نے کہا ہے کہ اس آیت میں فِيْ زائدہ ہے۔اور اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ اللہ تعالیٰ کے لئے حال ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی احسن تقویم سے