تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 22
ہیں۔اگر لوگ اس سورج کی طرف سے اپنا منہ موڑ لیں گے تو خدا تعالیٰ پھر بھی انہیںبھاگنے نہ دے گااس کے مقابل پر ایک چاند آکھڑا ہو گا اور اس سے روشنی اخذ کر کے دنیا پر پھینکنے لگے گا اور اس طرح پھر دنیا اس کے نور سے حصہ لینے لگے گی۔اگر تم زمین سورج اور چاند کو آدمی سمجھ لو تو تمثیلی رنگ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ زمین جب روٹھ کر سورج سے اپنا منہ پھیر لیتی ہے تو چاند کہتا ہے تم اس سے بھاگ کر کہاں جاتی ہو میں اس سے نور حاصل کر کے تم پر ڈال دوں گا۔غرض بتایا کہ دنیا خواہ پیٹھ پھیر لے، خواہ وہ اس شمس روحانی سے منہ موڑ لے پھر بھی اس سورج سے اکتساب ِ نور کرتے ہوئے ایسے قمر دنیا میں بھیجے جائیں گے جو پھر ظلمت کدۂ عالم کو بقعۂ نور بنا دیں گے اگر کوئی قمر نہ ہوتا اور دنیا اپنی پیٹھ سورج کی طرف پھیر دیتی تو لازماً تاریکی ہی تاریکی ہو جاتی۔اجالا ہونے کی کوئی صورت نہ ہوتی یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی شارع نبی آیا دنیا نے کچھ عرصہ کے بعد اس سے اپنا منہ موڑ لیا اور تاریکی و ظلمت کے بادل اس پر چھا گئے۔مگر فرمایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نبی نہیں یہ وہ شمس ہیں جس کے پیچھے قمر لگے ہوئے ہیں یہ وہ معشوق ہے جس کے عاشق اس کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں۔دنیا اگر روٹھے گی تو قمر اُس کو روشنی پہنچانے کے لئے ظاہر ہو جائیں گے۔وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا میں بتایا کہ ہمارا یہ سورج صرف اپنی ذات میں ہی روشنی نہیں رکھتا بلکہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ دنیا بھی اس سے روشنی لے لے گی۔اس جگہ نہار سے مراد زمانہء نبوی ؐ نہیں بلکہ نہار سے مراد بعد کا زمانہ ہے جب سورج تو نہ ہوگا مگر دن کا وقت سورج کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لاتا رہے گا یہاں تک کہ رات آجائے گی اور وہ اسے ڈھانپ لے گی اور ایک بار دنیا پھر معلوم کر لے گی کہ سورج کے بغیر گذارہ نہیں اور اس سے دوری خسران و تباب کا موجب ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جسمانی اور روحانی سورج میں ایک فرق بتایا ہے۔جسمانی سورج تو جب تک موجود رہتاہے دن چڑھارہتا ہے اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے رات آجاتی ہے لیکن روحانی سورج کی روشنی اس کے غائب ہونے کے بعد بڑھنی شروع ہوتی ہے گویا دنیوی دن تو سورج کے ہوتے ہوئے چڑھتا ہے لیکن روحانی دن سورج کے غائب ہونے کے بعداپنے کمال کو پہنچتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو قرآن اور احادیث نے ساری دنیا کو منور کیا مگر اس وقت جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وفات پا چکے تھے، جب روحانی سورج لوگوں کی نظروں سے غائب ہو چکا تھا۔یہ روحانی اور جسمانی سورج میں ایک نمایاں فرق ہے۔جسمانی سورج کا دن اس وقت چڑھتاہے جب سورج نکلتا ہے مگر روحانی سورج کا دن اس وقت کمال کو پہنچتا ہے جب وہ غائب ہو جاتا ہے۔جسمانی سورج کے طلوع ہونے پر لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن جب روحانی سورج طلوع کرتا ہے تو لوگ