تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 246
غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا وہ زیتون کی ٹہنی تمہیں یاد ہے جو نوحؑکو ہجرت کے بعد ملی تھی؟ کچھ خبر بھی ہے؟وہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار ہو رہی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہوگاکہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ۔جب ہم نے انسان کی فطرت کو نیک بنایا ہے تو وہ دیر تک نیکی سے محروم نہیں رہ سکتا۔طور سینین سے مراد زیتون کے بعد طُوْرِ سِيْنِيْنَ کی قسم کھائی گئی ہے یعنی اسے بھی شہادت کے طورپر پیش کیا گیا ہے۔سِيْنِيْنَ کیا چیزہے؟اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ سینین ایک علاقہ ہے جودشت سینا کہلاتا ہے اس سے مسلمانوں کو بھی دلچسپی ہے۔کیونکہ قرآن کریم میں اس کا ذکر آتا ہے اور یوروپین مصنفین کو بھی دلچسپی ہے کیونکہ بائبل میں اس کا ذکر آتا ہے لیکن یہ سوال کہ سینا اور طور سینا کہاں ہے؟اس میں بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔بعض مؤرخین کے نزدیک دشت سینا مصر کے شمال مشرقی حصہ میں ہے ان لوگوں کا خیال ہے کہ موسٰی کے سمندر پار ہونے کا واقعہ جو بیان کیا جاتا ہے وہ درست نہیں۔سمندر مصروفلسطین کے درمیان خاکنائے کے جنوب کی طرف ہے اور اس طرف حضرت موسٰی آئے ہی نہیں بلکہ آپ شمال کی طرف نکل گئے تھے بعض کا یہ خیال ہے کہ فلسطین سے ورے اور مصر اور فلسطین کے درمیان جو خاکنائے ہے جس میںسے اب آبنائے سویز بن گئی ہے اس میں خلیج عقبہ کے اوپر جو حصہ ہے وہ دشت سینا کہلاتا ہے گویا وہ دشت سینا کو خلیج عقبہ سے کچھ اوپر قرار دیتے ہیں لیکن بعض کے نزدیک دشت سینا کا علاقہ فلسطین کی طرف جھکا ہوا ہے بعض نے سینا اور طور کا کلی طور پر انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ محض ایک روایت ہے جس کے اندر کوئی حقیقت نہیںپائی جاتی(The Jewish Encyclopedia under word "Sinai Mount")۔بہرحال قرآن کریم نے طور کا لفظ استعمال کیا ہے اور طور کے معنے پہاڑ کے بھی ہوتے ہیں۔پس طور سینین کے یہ معنے ہیں کہ سینا کا ایک پہاڑ۔قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے طور کو اس پہاڑ کا نام قرار نہیں دیا بلکہ طور بمعنے پہاڑ استعمال کیا ہے۔یوروپین مؤرخ بھی اسی طرف گئے ہیں کہ طور کسی پہاڑ کا نام نہیں۔سورۂ طور میں وَالطُّوْرِ وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ کہہ کرطور پرالف لام لایا گیا ہے لیکن اس آیت میںاللہ تعالیٰ نے الف لام چھوڑ دیا ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ سورئہ طور میں جو الف لام لایا گیا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں طور کی کسی اور چیز کی طرف اضافت کرکے اس کی تعیین نہیں کی گئی تھی اس لئے اَلطُّوْر کہہ کر اس طرف اشارہ کردیا گیا کہ ہماری مراد موسٰی والے طور یا سینا والے طور سے ہے جس کو تم جانتے ہی ہو لیکن یہاں چونکہ سینین کی طرف طور کی اضافت موجود ہے اس لئے الف لام کو چھوڑ دیا گیا۔بہرحال اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ طور ایک نکرہ ہے جو اضافت سے ہی خاص معنے پاتا ہے بغیر اضافت کے اس کے کوئی خاص معنے نہیں سمجھے جاسکتے۔جیسے پہاڑ کا لفظ اگر ہم اپنی گفتگو میں استعمال