تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 245
اور پاک طینت لوگوں کی ایک جماعت اسے عطا کی جائے گی جو اس کی قدرو منزلت کوسمجھتے ہوئے ہر قسم کی قربانیاںاس کے لئے کرے گی اور اگر تم نوحؑکے دشمنوںکی طرح ہو تب بھی تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بے شک نوحؑنے ہجرت کی مگر خدا نے اس کے دشمنوں کو غرق کر دیا اور اسے زیتون کے پتے کے ذریعہ نجات کی بشارت دی اسی طرح بےشک تم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر میں سے نکال دو تم نوحؑکے دشمنوں کی طرح غرق کیے جاؤ گے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہرے گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے زیتون کی شاخ عطا کی جائے گی۔مدینہ کیا تھا؟وہ جودی تھی جہاں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کشتی ٹھہری اور مدینہ کے انصار کیا تھے؟وہ زیتون کے پتے تھے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیے گئے چنانچہ تعطیرالانام میں لکھا ہے مَنْ رَاٰی وَرَقَ الزَّیْتُوْنِ فِی ا لْمَنَامِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی اگر کوئی شخص خواب میں زیتون کے پتے دیکھے تو اس کی تعبیر یہ ہو گی کہ اس نے ایک نہ ٹوٹنے والا کڑا مضبوطی سے پکڑلیا ہے۔پس زیتون کا عطا کیا جانایہ معنے رکھتا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک ایسی جماعت دی جا ئے گی جو عروۃ الوثقی کو پکڑنے والی ہو گی وہ ایمان میں مضبوط ہو گی وہ قربانی میں کامل ہو گی وہ اطاعت میںحد کمال تک پہنچی ہوئی ہو گی اور کسی قسم کی تکلیف اس کے پائے ثبات میںجنبش پیدانہ کرے گی۔درحقیقت عروۂ وثقی کو مضبوطی سے پکڑلیناایمان باللہ کا ایک طبعی نتیجہ ہوتا ہے وہ شخص جس کے دل میں سچے طور پر ایمان پایا جاتاہے وہ الٰہی تعلیم کو ایسی مضبوطی کے ساتھ پکڑکر بیٹھ جاتا ہے کہ بڑے سے بڑے طوفان اورزلازل بھی اس کو ادھر ادھر نہیں کر سکتے۔وہ میدان کا بہادر اور جرأت واستقلال کا پیکر ہوتاہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میںہر قسم کی موت کو اختیار کرنا لذیذ ترین نعمت سمجھتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تین کا واقعہ بھی تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں اور زیتون کا واقعہ بھی تمہیں یاد دلاتے ہیںدونوں جگہ ہجرت ہوئی مگر دونوں جگہ شیطان کو نا کامی ہوئی آدمؑ نے ہجرت کی مگر آخرآدمؑ ہی دشمن پر کامیاب ہوا۔نوحؑنے ہجرت کی مگر آخر نوحؑ ہی دشمن پر کامیاب ہوا۔نوحؑکے بعد وہ ملک جس میں آپ رہتے تھے پھر بسا نہیں بلکہ تباہ ہو گیا۔اسی طرح محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد تم تباہ کر دیئے جائو گے تمہارے لیے شیطان کی طرح ہر طرف لعنت ا ور پھٹکار ہو گی اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تین کے پتے ہوں گے جو اسے عطا کیے جائیں گے۔تم نوحؑکے دشمنوں کی طرح غرق کیے جائو گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مدینہ کے لوگ اپنے ہاتھوں میںزیتون کی پتیاں لئے آگے بڑھیںگے اور کہیں گے یا رسول اللہ ہمارے ہاں تشریف لایئے ہم آپ کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے اور آپ کے پسینہ کی جگہ اپنا خون بہانے کے لیے تیار ہیں۔