تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 244
پیدائش باب ۸میں نوحؑ کے واقعہ کے ساتھ زیتون کا بھی ذکر ہے۔بائبل میں لکھا ہے۔’’پھر خدا نے نوح کو اور سب جانداروںاور سب مواشیوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میںتھے یاد کیا اور خدا نے زمین پر ایک ہوا چلائی اور پانی ٹھہر گیااورگہرائو کے سوتے اور آسمان کی کھڑکیاںبند ہوئیں۔اور آسمان سے مینہ تھم گیا اور پانی زمین پر سے رفتہ رفتہ گھٹتا جاتا تھا اور ڈیڑھ سو دن کے بعد کم ہوا اور ساتویں مہینہ کی سترھویں تاریخ کو اراراط کے پہاڑوں پر کشتی ٹک گئی اور پانی دسویں مہینہ تک گھٹتا جاتا تھا اور دسویں مہینہ کی پہلی تاریخ کو پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آئیں اور چالیس دن کے بعد یوں ہوا کہ نوح نے کشتی کی کھڑکی جو اس نے بنائی تھی کھول دی اور اس نے ایک کوے کو اڑا دیا سو وہ نکلا اور جب تک کہ زمین پر سے پانی سوکھ نہ گیا آیا جایا کرتا تھا۔پھر اس نے ایک کبوتری اپنے پاس سے اڑا دی کہ دیکھے کہ زمین پر پانی گھٹا یا نہیں۔پر کبوتری نے پنجہ ٹیکنے کی جگہ نہ پائی اور اس کے پاس کشتی میں پھر آئی کیونکہ تمام روئے زمین پر پانی تھا۔تب اس نے ہاتھ بڑھا کے اسے لے لیا اور اپنے پاس کشتی میں رکھا پھر اس نے اور سات روز صبر کیا تب اس کبوتری کو پھر کشتی سے اڑا دیا اور وہ کبوتری شام کے وقت اس کے پاس پھر آئی اوردیکھو زیتون کی ایک تازہ پتی اس کے منہ میں تھی۔تب نوح نے معلوم کیا کہ اب پانی زمین پر کم ہوا اور وہ اور بھی سات دن ٹھہرا بعد اس کے پھر اس کبوتری کو اڑا دیا وہ اس کے پاس پھر کبھی نہ آئی۔‘‘(پیدائش باب ۸ آیت ۱تا۱۲) غرض نوحؑ کو جس چیز نے یہ بشارت دی تھی کہ تیری ہجرت کامیاب ہو گئی ہے تو جیت گیا اور تیرے دشمن ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو گئے ہیںوہ زیتون کی پتی تھی اور آدم کو جس چیز نے یہ بتایا کہ تو کامیاب ہو گیا ہے وہ انجیر کے پتے تھے اللہ تعالیٰ انہی دو واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ کہ ہم تمہیں بتا تے ہیں کہ آدم ہمارا پہلا نبی تھا جس کو شیطان نےجنت سے نکلنے اور ہجرت کرنے پر مجبور کیا مگر وہ ہجرت آدم کونقصان پہنچانے کا موجب نہیں ہوئی،وہ ہجرت مومنوں کو ناکام کرنے کا موجب نہیں ہوئی۔بے شک آدم نے ہجرت کی مگر آخر آدم ہی جیتا اور شیطان ناکام ہوا۔اسی طرح اے مکہ والو!آج تم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر میں سے نکالنا چاہتے ہو۔مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر تم اپنے افعال میں اس شیطان کے مثیل ہو جس نے آدم کو جنت میں سے نکالا تھا تو ہمارا یہ رسول آدم ہے جسے ہم نے ایک نئی روحانی مخلوق پیدا کرنے کے لیے دنیا میںبھیجا ہے تم اسے آدم کی طرح ہجرت کرنے پر مجبور کرو گے۔تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آدم کی طرح اسے بھی تین کے پتے مل جائیں گے یعنی صلحاء