تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 243
رسوا کرنے والا اور قائم رہنے والا عذاب نازل ہوتا ہے۔یہاں تک کہ ہمارا حکم نازل ہوگیا اور تنور جوش میں آگیا۔ہم نے نوحؑ سے کہا کہ ہرقسم کے جوڑے اپنی اس کشتی میں رکھ لے اسی طرح اپنے اہل کو بھی بٹھالے سوائے اُن کے جن کے متعلق عذاب کی خبر دی جاچکی ہے اور مومن بندو ںکو بھی سوار کرلے۔اور اس پر ایمان نہیں لائے تھے مگر بہت تھوڑے لوگ۔اُس نے سب سے کہا کہ اس کشتی میں بیٹھ جائو۔اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھہرنا بھی۔میرا رب یقیناً بخشنے والا اورمہربان ہے۔جب طوفان آیا اور پہاڑوں جیسی لہروں میں کشتی چلنے لگی اس وقت نوحؑ نے اپنے بیٹے سے جو علیحدہ تھا کہا کہ اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجائو اور کافروں سے مت ملو۔ہجرت کے بعدحضرت نوح علیہ السلام کا جودی پہاڑ پر ٹھہرنا اور شیطان کے مقابل پر فتحیاب ہونا دیکھو یہاں سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت نوحؑاس وقت ہجرت کرکے اپنے وطن کو چھوڑ رہے تھے۔انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی تحریک کی کہ ہمارے ساتھ آجائو اور اپنے وطن کو چھوڑ دو۔مگر اس نے جواب دیا کہ مجھے اپنا وطن چھوڑنے کی ضرورت نہیں آپ بے شک چلے جائیں میں کسی پہاڑ پر چڑھ جائوں گا۔یعنی تو اگر وطن چھوڑنا چاہتا ہے تو بے شک چھوڑ دے میں اپنا وطن چھوڑنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوں۔حضرت نوحؑنے کہا آج خدا کے عذاب سے وہی بچ سکتا ہے جس پر وہ خود رحم کرے اور کوئی شخص اپنی تدبیر کے زور سے اس ہلاکت سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔اتنے میں ایک لہر اٹھی اور ان کا لڑکا غرق ہو گیا۔پھر خدا نے کہا۔اے زمین تو اپنا پانی پی لے اور اے آسمان تو بھی اپنا پانی روک لے چنانچہ پانی تھم گیا اور نوحؑکی کشتی جودی مقام پر ٹھہر گئی اس وقت کہا گیا بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ یعنی ظالموںکی قوم دور ہو گئی۔یا اب تمہارے اور ان کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہو گیا ہے۔اب دیکھو یہ بھی ایک ہجرت تھی جو نوحؑنے کی۔نوحؑاپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔مگر ان کے بیٹے نے ان کا ساتھ نہ دیا بلکہ ان کی تحریک پرجب اس نے کہا کہ میںپہاڑ پر چڑھ جائوں گا تو اس کے معنے بھی یہی تھے کہ نوحؑکی قوم سمجھتی تھی کہ ہم تباہ نہیں ہوں گے۔یہ چلا جا ئے گااور ہم پہاڑوں میں امن سے رہیں گے اور شکر کریں گے کہ ہمارے سر سے یہ بلا ٹلی۔مگر ہوا یہ کہ نوحؑبچ گیااور وہ قوم جو نوحؑکی ہجرت میںاپنی کامیابی سمجھتی تھی تباہ ہو گئی۔اللہ تعالیٰ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زیتون کا ذکرکرتا ہے اور فرماتا ہے آدم کا واقعہ توتم نے سن لیا۔اب تم نوحؑکے واقعہ پر غور کرو۔یہاںبھی نوحؑکو دشمنوں کی وجہ سے ملک چھوڑنا پڑا مگر اس ہجرت کے نتیجہ میںبھی کفار ہی تباہ ہوئے اورنوحؑاور ان کی قوم کوزیتون کی شاخ ملی یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے صلح کا پیغام اور ایک ایسی جماعت جو عُرْوَۃُ الْوُثْقٰی کو پکڑ نے والی تھی یعنی ایمان میں مضبوط اور قربانی میںکامل۔چنانچہ