تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 239

اس نے عورت سے کہا کیا یہ سچ ہے کہ خدا نے کہا کہ باغ کے ہر درخت سے نہ کھانا عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل ہم تو کھاتے ہیں مگر اس درخت کے پھل کو جو باغ کے بیچوں بیچ ہے خدا نے کہا کہ تم اس سے نہ کھانا اور نہ اسے چھونا ایسا نہ ہو کہ مرجائو۔تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہرگز نہ مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن اُس سے کھائو گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے ہوؤ گے اور عورت نے جوں دیکھا کہ وہ درخت کھانے میں اچھا اور دیکھنے میں خوشنما اور عقل بخشنے میں خوب ہے، تو اس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے خصم کو بھی دیا اور اس نے کھایا۔تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں معلوم ہوا کہ ہم ننگے ہیں اور انہوںنے انجیر کے پتوں کو سی کے اپنے لئے لنگیاں بنائیں‘‘ (پیدائش باب ۳ آیت ۱ تا ۷) یعنی جب شیطان نے آدم کو جنت میں سے نکالنے کا سامان کیا تو آدم نے وَرَقِ الْجَنَّةِ کو اپنے ساتھ لپٹالیا اور اس طرح وہ ننگ جو ظاہر ہوگیا تھا اس کو ڈھانک لیا۔یہ بتایا جاچکا ہے کہ وَرَق الْجَنَّةِ تعبیر الرئویا کے مطابق انجیر کے پتوں کو کہتے ہیں اور جیسا کہ انجیر کے معنے صلحاء اور پاک طینت لوگوں کے ہیں۔اسی طرح وَرَقِ الْجَنَّةِ کے معنے بھی جنتی نسل کے ہیں اور جنتی نسل وہی ہوتی ہے جو صلحاء اور پاک لوگوں پر مشتمل ہو۔بہرحال قرآن اوربائبل دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ شیطان جب آدم کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوا تو آدم نے انجیر کے پتوں کو اپنے گرد لپٹالیا۔یعنی جب شیطان نے ان کو دھوکا دیا اور صلح کے نام پر آدم کو اپنے ساتھ ملا کر خدائی سکیم کو ناکام کرنا چاہا تو آدم کو یک دم اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور انہوں نے مومنوں کی جماعت کو اپنے ساتھ ملا کر شیطانی تدابیر کو ناکام کردیا۔شیطان نے تو چاہا تھاکہ اس ذریعہ سے وہ آدم کو شکست دے دے مگر بجائے اس کے کہ آدم کا یہ فعل ان کے لئے کسی نقصان یا خرابی کا موجب ہوتا ان کے اندر ایک نئی بیداری پیدا ہوگئی اور وہ ترقی کے میدان میں اور بھی آگے نکل گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف رجوع برحمت فرمایا اور انہیں پہلے سے بھی زیادہ ترقی دے دی۔جیسے احرار نے ۱۹۳۴ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک بہت بڑا فتنہ اٹھایا اور اس لئے اٹھایا کہ وہ جماعت احمدیہ کو کچل کر رکھ دیں مگر یہی فتنہ ایسی بیداری اور حرکت پیدا کرنے کا موجب بن گیا کہ ہماری جماعت پہلے سے کئی گنا ترقی کرگئی۔اسی طرح شیطان نے آدم اور اس کی جماعت کی تباہی کے لئے جو تدبیر اختیار کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی خرابیاں اتنی جلدی آدم پر ظاہر کردیں کہ ان کی آنکھیں کھل گئیں۔انہوںنے یک دم وَرَقِ الْجَنَّةِ کو سمیٹ لیا اور دشمن کے سامنے اعلان کردیاکہ ہمارا تمہارے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تم صلح اور آشتی کے نام پر ہمیں