تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 231
ہو جائے اور وہ بھی روحانی پھل پیدا کرنے لگے مگر یہودی قوم نے آپ کو ماننے سے انکار کر دیااس پر حضرت مسیحؑ نے لعنت کی جس کا مفہوم یہ تھا کہ آئندہ یہ قوم خدا تعالیٰ کی نعمتوں سے ہمیشہ محروم رہے گی مولوی محمد علی صاحب نے سمجھا ہو گا کہ میں ایک بہت بڑا نکتہ نکال کر پیش کر رہا ہوں حالانکہ عیسائی بھی یہی معنے کرتے ہیں کہ اس واقعہ میں یہودیوں کی تباہی کی طرف اشارہ تھا اور مراد یہ تھی کہ انجیر کے درخت پر اب پتے ہی باقی رہ گئے ہیں پھل نہیں۔یعنی یہودیوں میں صرف ظاہرہی ظاہر رہ گیا ہے۔پھل اور روحانیت ان میں نہیں رہی اس لئے آئندہ یہ درخت سوکھ جائے گا۔یعنی کوئی نبی ان میں نہیں آئے گا۔پس انجیر سلسلۂ اسرائیل کا قائم مقام ہے اور زیتون سلسلہ محمدیہ کا اور انجیر اور زیتون الگ مثال نہیں ہیں بلکہ طور اور بلدالامین ہی کی طرف اشارہ کرتی ہیں پہلے ان کے ذریعہ سے مخفی اشارہ موسوی اور محمدیؐ سلسلہ کی طرف کیا گیا پھر طور و بلد الامین کہہ کر اس اشارہ کو واضح کر دیا گیا۔تین و زیتون کی تفسیر حضرت خلفیۃ المسیح الاوّلؓکی زبانی حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں (خلاصہ میرے الفاظ میں ہے) کہ ان کی قسم اس لئے کھائی یعنی تین اور زیتون کی کہ علاوہ غذا کے دواکے طور پر بھی یہ استعمال ہوتی ہیں۔کبھی طبیب تین تجویز کرتا ہے تو کبھی زیتون۔مطلب یہ کہ ایک زمانہ میں خدا تعالیٰ نے طور سینین کا نسخہ استعمال کیااور اس زمانہ میں بلدالامین کا نسخہ اس نے تجویز کر دیا(حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۴۱۷)۔گویا وہی لف و نشر کی مثال ہے۔تین سے مراد بنی اسرائیل اور زیتون سے مراد بلدالامین سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں گویا وہ مضمون جو مولوی محمد علی صاحب نے بیان کیا ہے۔در حقیقت حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کا بیان کردہ ہے۔اسی طرح دو ٹوکریوں کی مثال جو مولوی محمد علی صاحب نے پیش کی ہے یہ بھی حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کی زبان سے میں نے خود سنی ہے۔مگر افسوس ہے کہ آپ کے درس کے چھپے ہوئے نوٹوں میں یہ بات نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ مفتی محمد صادق صاحب اور قاضی اکمل صاحب نے یہ نوٹ لکھے ہیں اور وہ مضمون کا بہت سا حصہ چھوڑ کر صرف مختصر نوٹ لینے پر اکتفا کیا کرتے تھے لیکن پھر بھی ان نوٹوں میں یہ بات موجود ہے کہ ’’تین اور زیتون ان دو چیزوں کو قسمیہ بطور شہادت کے اس لئے بیان کیا کہ علاوہ غذا کے جسمانی امراض کے لئے بھی بطور دوا کے یہ دونوں چیزیں استعمال کی جاتی ہیں کبھی طبیب تین تجویز کرتا ہے تو کبھی تبدیل نسخہ کے لئے زیتون مفید سمجھتا ہے۔‘‘ گویاحضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کے مضمون میں ایک زائد بات یہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں جس طرح طبیب کبھی تین کو چھوڑ کر زیتون استعمال کراتا ہے اسی طرح خدا نے اگر تین والے نسخے کو بدل کر زیتون والا نسخہ استعمال کرانا شروع کر دیا تو اس میں اعتراض کی کون سی بات ہے۔خدا حکیم ہے اور وہ ہمیشہ مرض کے مطابق آسمان سے علاج نازل