تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 225

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ ( میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں)۔وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِۙ۰۰۲وَ طُوْرِ سِيْنِيْنَۙ۰۰۳ (مجھے) قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔اور سینین کے پہاڑ کی۔وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِۙ۰۰۴ اور اس امن والے شہر کی۔تفسیر۔تین و زیتون کی تشریح پرانے مفسرین کے قلم سے فرماتا ہے قسم ہے ہم کو یاہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں انجیر کو بھی۔زیتون کو بھی۔طور سیناء کو بھی اور اس بلد الامین کو بھی۔فتح البیان میں لکھا ہے قَالَ اَکْثَرُ الْمُفَسِّـرِیْنَ اَلتِّیْنُ ھُوَالتِّیْنُ الَّذِیْ یَاْکُلُہُ النَّاسُ وَالزَّیْتُوْنُ ھُوَالَّذِیْ یَعْصِـرُوْنَ مِنْہُ الزَّیْتَ الَّذِیْ ہُوَ اِدَامُ غَالِبِ الْبُلْدَانِ وَ دُھْنُـھُمْ وَ یَدْخُلُ فِیْ کَثِیْـرٍ مِّنَ الْاَدْوِیَۃِ یعنی اکثر مفسرین کے نزدیک تین سے مراد وہی تین ہے جو لوگ کھاتے ہیں یعنی اس سورۃ میں جو وَ التِّيْنِ کا لفظ استعمال کیا گیاہے اس سے مراد وہی عام انجیر ہے جسے لوگ کھایا کرتے ہیں اور زیتون سے مراد بھی وہی زیتون ہے جسے لوگ کھاتے ہیں۔جو اکثر ملکوں میں بطور سالن اور چکنائی کے استعمال ہوتاہے اور بہت سی دوائوں میں بھی پڑتا ہے۔گویا یہاں اس سورۃ میں جو وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ فرمایا گیا ہے اس میں کوئی بات استعارۃً یا تمثیلاً بیان نہیں کی گئی بلکہ اس سے وہی انجیر مراد ہے جو کھانے کے کام آتی ہے اور وہی زیتون مراد ہے جس کا تیل لوگ اچاروں میں ڈالتے یا سالن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ہمارے ہاں اچار میں تیل یا سرکہ ڈالتے ہیں مگر مغربی ممالک میںعموماً زیتون کا تیل استعمال کیاجاتا ہے۔وَ قَالَ الضَّحَّاکُ اَلْمَسْجِدُ الْاَقْصٰی اور ضحاک کہتے ہیں کہ تین سے مراد مسجد بیت الحرام اور زیتون سے مراد مسجد اقصیٰ ہے۔وَ قَالَ ابْنُ زَیْدٍ مَسْجِدُ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ اور ابن زید کہتے ہیں کہ اس سے مراد بیت المقدس کی مسجد ہے۔وَقَالَ قَتَادَۃُ الْـجَبَلُ الَّذِیْ عَلَیْہِ بَیْتُ الْمُقَدَّسِ اور قتادہ کہتے ہیں اس سے مراد وہ پہاڑ ہے جس پر بیت المقدس بنایا گیا ہے وَقَالَ عِکْرِمَۃُ وَ کَعْبُ الْاَحْبَارِ بَیْتُ الْمُقَدَّسِ اور عکرمہ اور کعب الاحبار کہتے ہیں