تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 221

سُوْرَۃُ التِّیْنِ مَکِّیَّۃٌ سورۂ تین۔یہ سورۃ مکی ہے۔وَھِیَ ثَـمَانِیَ اٰیَاتٍ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِیْـھَا رَکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے سوا آٹھ آیات ہیں اور ایک رکوع ہے۔سورۃ التین مکی ہے جمہور کے نزدیک یہ سورۃ مکی ہے۔قرطبی نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ مدنی ہے۔قتادہ کا بھی قول نقل کیا گیا ہے کہ یہ مدنی ہے۔مگر اس کے مقابل میں ابن ا لفریس، نحاس، ابن مردویہ اور بیہقی نے ابن عباسؓ سے ہی روایت کی ہے کہ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃُ التِّیْنِ بِـمَکَّۃَ یعنی سورۂ تین مکہ میں نازل ہوئی تھی (فتح البیان زیر سورۃ التین و تفسیر قرطبی زیر سورۃ التین نیز روح المعانی زیر سورۃ التین )۔یہ دوسری روایت قرطبی کی روایت کو رد کرتی ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن عباس ؓکی طرف سے بھی یہی روایت ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے۔ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے بھی اس قسم کی روایت نقل کی ہے۔گویا ابن عباسؓ کے علاوہ عبداللہ بن زبیرؓ بھی اس سورۃ کو مکی قرار دیتے ہیں۔بقیہ علماء نے بھی باوجود اس روایت کے جو قرطبی نے نقل کی ہے اسے مکی ہی قرار دیا ہے۔بخاری، مسلم،ابو دائود اور ابن ماجہ وغیرہ میں اور اسی طرح بعض اور کتب میں بھی براء بن عازب سے روایت نقل کی گئی ہے کہ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلّم فِیْ سَفَرٍ فَصَلَّی الْعِشَاءَ فَقَرَأَ فِیْ اِحْدَی الرَّکْعَتَیْنِ بِالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ فَـمَا سَـمِعْتُ اَحَدًا اَحْسَنَ صَوْتًا وَّ لَا قِرْأَ ۃً مِّنْہُ یعنی ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جا رہے تھے کہ آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی اور اس کی پہلی دو رکعتوں میں سے ایک میں آپ نے سورۂ تین پڑھی۔میں نے کسی شخص کو اس سے زیادہ خوبصورت آواز اور اچھی قرأت کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھتے نہیں سنا جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے پڑھتے سنا۔ایک دوسری روایت جو انہی کی ہے اس میں بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے مگر ابن الخطیب میں براء بن عازب کی جو روایت آتی ہے اس میں عشاء کی بجائے مغرب کا لفظ ہے۔نولڈکے جرمن مستشرق اسے سورۃ البروج کے ساتھ کی نازل شدہ بتاتا ہے۔یعنی یہ بھی ابتدائی زمانہ کی مکی سورۃ