تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 217

ایک نیا دور پیدا کر دیا کرے گا۔گویا اسلام کے ایک دفعہ قائم ہو جانے اور اس کے ہلاکت سے بچ جانے کے بعد ہر موقع پر اس کی ترقی کے نئے سے نئے سامان پیدا ہوتے رہیں گے۔ایسا کبھی نہیں ہو گا کہ اسلام ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو جائے اور کفر کو غلبہ حاصل ہو جائے۔گویا حفاظت اسلام کا وعدہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو بشارت دی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائید ہمیشہ اس مذہب کے ساتھ ہوگی اور وہ ہمیشہ تنزل کے بعد اس کی ترقی کے سامان پیدا کرتا رہے گا۔آنحضرت صلعم کی دوسری بعثت کی پیش گوئی دو کے لفظ کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں بعثت محمدی اور بعثت احمدی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ اس زمانہ میں کفر نے خاص جوش ماراہے مگر ہم اس کفر کو توڑنے کے لئے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو روحانی بعثتیں کریں گے تا اس کا زور بالکل ٹوٹ جائے۔فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ۰۰۸ پس جب (بھی) تو فارغ ہو تو ( دوسرے مقصد کے حصول کے لئے ) پھر کوشش میں لگ جا۔حلّ لُغات۔فَرَغْتَ۔فَرَغَ سے واحد مخاطب مذکر کا صیغہ ہے اور فَرَغَ کے کئی معنے ہوتے ہیں۔جب فَرَغَ مِنَ الْعَمَلِ کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں خَلَا ذَرْعُہٗ وہ کسی کام سے فارغ ہو گیا اور جب فَرَغَ لَہٗ وَاِلَیْہِ کہیں تو معنے ہوتے ہیں قَصَدَ۔اس نے کسی چیز کا ارادہ کیا۔نیز کہتے ہیں فَرَغَ فُلَانٌ فُرُوْغًا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ مَاتَ فلاں شخص مر گیا۔اور جب برتن کے لئے فَرَغَ کا لفظ بولیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں خَلَا۔خالی ہو گیا۔نیز فَرَغَ کے معنے کسی کام کو پورا کر دینے کے بھی ہوتے ہیں چنانچہ کہتے ہیں فَرَغَ فُلَانٌ مِّنَ الشَّیْءِ: اَتَـمَّہٗ کہ فلاں نے کام کو ختم کر د یا۔(اقرب) فَانْصَبْ نَصِبَ یَنْصَبُ سے امر کا صیغہ ہے اور نَصِبَ الرَّجُلُ نَصْبًا کے معنے ہوتے ہیں اَعْیَا وہ تھک گیا۔اور نَصِبَ فِی الْاَمْرِ کے معنے ہوتے ہیں جَدَّ وَاجْتَـھَدَ اس نے محنت اور کوشش کی (اقرب) یہاں فَانْصَبْ کے معنے محنت اور جدوجہد کرنے کے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ۔جب تو فارغ ہوجائے تو پھر جدوجہد میں مشغول ہو جا۔