تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 216

لیتا گیا اور گھونسے پر گھونسہ مارتا چلا گیا۔ابھی پانچ دس گھونسے ہی لگے تھے کہ وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑ اہوگیا اور کہنے لگا مجھے معاف کرو میں خدا نہیں ہوں۔تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ دلیلیں نہیں دیتے ڈنڈے لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ایسے شخص کو خارجی لحاظ سے عسر ہوتا ہے مگر ذہنی لحاظ سے عسر نہیںہوتا اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو خارجی لحاظ سے تو اطمینان حاصل ہوتا ہے مگر اس کے ذہن میں سکون نہیں ہوتا۔وہ ایک تعلیم کو مان رہا ہوتا ہے مگر بار بار اس کے دل میں یہ خیال بھی اٹھتا ہے کہ نامعلوم یہ تعلیم سچی بھی ہے یا نہیں۔کامل اطمینان اور کامل سکون وہی شخص حاصل کرسکتا ہے جسے خارجی لحاظ سے بھی اطمینان ہواور ذہنی لحاظ سے بھی اطمینان ہو۔آنحضرت صلعم کے صحابہؓ کو ہر طرح اطمینان حاصل ہوجانے کی پیش گوئی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ہمارے رسول! بے شک آج دنیا تیرے ساتھیوں کو سخت سے سخت تکالیف پہنچارہی ہے مگر ہم عنقریب ان کو دونوں قسم کے اطمینان دینے والے ہیں۔پہلا اطمینان جو ان کو میسر آئے گا وہ ذہنی ہوگا۔یعنی تیری جماعت کا ہر فرد ذہنی لحاظ سے اس بات پر مطمئن ہوگا کہ اس نے سچائی کو قبول کیا ہے، راستی کو اختیار کیا ہے، نجات کے طریق کو پسند کیا ہے۔یہ خلش اور یہ دُبدہ اس کے اندر نہیں ہوگاکہ نہ معلوم جس راہ پر میں چل رہا ہوں وہ خدا تک انسان کو پہنچاتا ہے یا نہیں پہنچاتا۔اس کے بعد خارجی لحاظ سے بھی ہم ان کے اطمینان کے سامان پیدا کردیں گے یعنی دشمن کی تکالیف کا سلسلہ جاتا رہے گا۔ان کو کامیابی حاصل ہوجائے گی اور وہ تنگی جو آج محسوس کی جارہی ہے بالکل دور ہوجائے گی گویا وہ دو یسر جن کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔وہ ذہنی اور خارجی اطمینان کے سامان ہیں۔یعنی ہم قوم کو باایمان بنانے کے لئے اس کے تمام شکوک و شبہات کو مٹا کر اسے یقین کی ایک مضبوط چٹان پر کھڑا کردیں گے اور خارجی لحاظ سے ان تمام مصیبتوں اور تکلیفوں کو دور کردیں گے جو دشمن کی طرف سے انہیں پیش آرہی ہیں اور وہ غالب اور بادشاہ ہوجائیں گے جس کی وجہ سے کوئی انہیں جسمانی عذاب نہ دے سکے گا۔اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا میں اُمت محمدیہ کو دینی و دنیوی انعام ملنے کی پیش گوئی دوسرے معنے دنیوی اور اخروی انعامات کے ہیں۔یعنی تمہیں دنیا کے بھی انعامات ملیں گے اور آخرت کے انعامات بھی تمہیں عطا کئے جائیں گے۔اگر کوئی کہے کہ اخروی انعامات کے ملنے کا کیا ثبوت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رئویا وکشوف اور الہامات جن سے اللہ تعالیٰ کے مومن بندے اس دنیا میں اپنی اپنی استعداد کے مطابق حصہ لیتے ہیں۔وہ اس بات کا ثبوت ہوتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اخروی نعماء کے متعلق جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ بالکل درست ہے۔اس آیت کے یہ بھی معنے ہیںکہ جب کبھی اسلام پر تنگی اور مصیبت کا زمانہ آئے گا اللہ تعالیٰ اس کے بعد ترقی کا