تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 16
دور پھینک دیتے ہیں۔اگر ری فلیکٹر نہ ہو تو روشنی بہت محدود جگہ میںرہتی ہے لیکن جب روشنی کے ساتھ ری فلیکٹر مل جاتاہے تو اس کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور وہ دور دور تک اندھیروں کو زائل کردیتا ہے۔قمر کے معنے در اصل ری فلیکٹرکے ہی ہیںیعنی ایسا وجود جس میں ذاتی طور پر یہ قابلیت ہوتی ہے کہ وہ سورج سے نور لے کر اسے دوسروں کی طرف پھینک دے۔یہ خیال نہیںکرنا چاہیے کہ اگر قمر کی جگہ کوئی سا بھی اور ستارہ رکھ دیا جائے تو وہ بھی سورج کی روشنی کو اپنے اندر جذب کر کے دوسروں کی طرف پھینک سکتاہے ہر ستارہ یہ قابلیت نہیں رکھتا۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے نظامِ شمسی میں صرف قمر میں ہی یہ قابلیت پیدا کی ہے کہ وہ سورج سے اس کی روشنی اخذ کرے اور پھر اسے اپنے اندر جذب کر کے دوسروں کی طر ف پھینک کر ان کو منور کر دے۔اسی لئے چاند کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ کسی قسم کی آبادی کے قابل نہیں ہے اگر وہ قابل آبادی ہوتا تو اس میں درخت ہوتے، گھاس ہوتا بڑے بڑے جنگلات ہوتے۔مگر یہ چیزیں چاند میں نہیں ہیں۔کیونکہ اگر یہ چیزیں ہوتیں تو وہ روشنی کو اپنے اندر جذب کر کے دوسروں کی طرف پھینک نہیںسکتا تھا۔مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے چاند کو ری فلیکٹر کے طور پر بنایا ہے اس لئے اُس نے چاندمیں ریت کے بڑے بڑے میدان پیدا کر دیئے ہیں جب سورج کی روشنی اُن پر پڑتی ہے تو وہ ریت کے میدان ری فلیکٹر کے طور پر اس کو دنیا پر پھینک دیتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْقَمَرِ ہم تمہارے سامنے ایک ایسے وجود کو پیش کرتے ہیں جو قمری حیثیت رکھتا ہے مگر صرف قمر کے وجود کو نہیں بلکہ قمر کی اس حالت کو جب وہ پوری طرح سورج کے سامنے آکراس کی ساری روشنی کو اپنے سارے وجود میں لے لیتا ہے بے شک قمر میںیہ خوبی ہے کہ وہ روشنی لے کر دوسروں کی طرف پھینک دیتا ہے لیکن روشنی اس کے سامنے نہ ہو گی تو وہ پھینکے گا کیا؟ اسی لئے صرف قمر کو شہادت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اِذَا تَلٰىهَا ہم قمر کو ایسی حالت میں شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جب وہ سورج کے بالکل سامنے آجاتا ہے۔ذاتی خوبی تو قمر کی یہ ہے کہ وہ سورج کی روشنی کو لے سکتا ہے اور پھر دوسروںکی طرف پھینک سکتا ہے لیکن یہ اس کی ذاتی خوبی اس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتی جب تک وہ سورج کے سامنے نہ آجائے اگر سورج کے سامنے آجائے تو اس کی یہ خوبی ظاہر ہو جاتی ہے اور اگر سورج اور چاند کے درمیان کوئی اور چیز حائل ہو جائے جیسے بعض دفعہ زمین حائل ہو جاتی ہے تو چاند کو گرہن لگ جاتا ہے اور وہ سورج کی روشنی کو زمین کی طرف پھینکنے سے قاصر رہتا ہے یا مثلاً پہلی رات کا چاند ہے اس وقت بھی وہ سورج کے سامنے پورے طور پر نہیں ہوتا اسی لئے وہ اس وقت قمر یا بدر کی بجائے ہلال کی صورت میں نمودار ہوتا ہے مگر جب چودھویںرات آجائے تو چاند مکمل طور پر سورج کے سامنے آجاتا ہے اور اس کی روشنی اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا پر جلوہ گر ہوتی ہے۔پس