تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 182
نے میری حفاظت فرمائی اور تمہارے حملہ سے اس نے مجھے محفوظ رکھا۔مگر تم پھر بھی اللہ کا لفظ اپنی زبان پر نہ لاسکے۔جو ثبو ت ہے اس بات کا کہ گھبراہٹ کے موقع پر تصنع اوربناوٹ سے اللہ کا لفظ زبان پر نہیں آسکتا۔یہ آتا ہے تو اسی حالت میں جب انسان کے رگ و ریشہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت جاگزیں ہوچکی ہو اور وہ سورج سے بھی زیادہ یقینی دلائل سے اس یقین پر قائم ہوچکا ہو کہ میرا رب مجھے نہیں چھوڑ سکتا۔پس یہ واقعہ بھی اس شرح صدر کا ایک بیّن ثبوت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا۔(۶) چھٹا واقعہ غزوئہ خندق کا ہے۔دشمن آیا اور اس نے مدینہ کا چاروں طرف سے احاطہ کرلیا۔قرآن کریم نے اس محاصرہ کا سورئہ احزاب میں نہایت ہی اعلیٰ نقشہ کھینچا ہے۔جب دشمن سمجھتا تھا کہ میں نے مسلمانوں کو مارلیا۔اس وقت مومن بندے کہہ رہے تھے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کی باتیں پوری ہوگئیں۔هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ٞ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِيْمَانًا وَّ تَسْلِيْمًا (الاحزاب: ۲۳) بجائے گھبرانے کے وہ خوش خوش پھرتے تھے کہ خدا نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہوگیا۔یہ بھی ثبوت ہے اس شرح صدر کا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا۔کیونکہ اگر آپ کو شرح صدر نہ ہوتا تو آپ کے ماننے والوں کے دلوں میں یہ غیر معمولی یقین خدائی دعووں پر کس طرح پیدا ہوجاتا کہ دشمن چاروں طرف سے محاصرہ کئے ہوئے ہے اور وہ خوش ہورہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی باتیں پوری ہوگئیں۔(۷) ساتواں واقعہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب مسیلمہ کذاب اپنے قبیلہ کے سرکردہ لوگوں کو لے کر آپ کے پاس آیا۔اس کی پشت پر اس کی قوم کا ایک لاکھ سپاہی تھا۔سرداران قوم نے کہا یا رسول اللہ ہم آپ کو مان چکے ہیں اور آپ کی بیعت بھی کرچکے ہیں مگر اب ہماری قوم کا ایک فرد کہتا ہے کہ تم مجھے مانو۔ہم اسے آپ کے پاس لے آئے ہیں تاکہ آپس میں کوئی سمجھوتہ ہوجائے اور یہ فتنہ بڑھنے نہ پائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر مل چکی تھی کہ آپ کی وفات قریب ہے۔ادھر عرب میںسے سب سے طاقتور اور سب سے زیادہ تعدادرکھنے والا قبیلہ آپ کے پاس وفد لایااو رکہا کہ مسیلمہ کو بھی الہام ہوتا ہے اور یہ کہتا ہے مجھے مان لو۔ہم اسے آپ کے پاس اس لئے لائے ہیں تاکہ آپ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ ہوجائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ سے فرمایا کہ بتائو تم کیاچاہتے ہو؟ اس نے کہا پہلے آپ بتائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا میں یہی چاہتاہوں کہ مجھے رسول ماناجائے اور میری اطاعت اختیار کی جائے۔مسیلمہ نے کہا ہم آپ کو بے شک رسول مانتے ہیں مگر ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ آپ اپنی وفات کے بعد جب کہ آپ کو اس معاملہ سے کوئی دلچسپی نہیں رہے گی (کیونکہ آپ