تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 181

کے حملہ سے محفوظ رہوں۔مگر آپ کھڑے رہے اور کھڑے رہے اور کھڑے رہے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ میں نے لوگوں کے ہاتھ سے مرنا تو ہے ہی نہیں۔یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ مجھے ہلاک کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدۃ:۶۸) خدا تعالیٰ میری حفاظت کرے گا اور وہ مجھے قتل سے محفوظ رکھے گا۔یہ وعدہ بہرحال پور ا ہوگا اور دشمن اپنے ارادوں میں ناکامی کا منہ دیکھے گا۔پس احد کا واقعہ بھی اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔(۵) پانچواں واقعہ غزوئہ غطفان کا ہے۔ایک شخص نے ارادہ کیا کہ وہ آپ کو قتل کئے بغیر گھر واپس نہ جائے گا۔وہ چھپتا چھپتا اسلامی لشکر کے پیچھے چلا آیا تا کہ موقع ملنے پر آپ پر حملہ کرے مگر اسے کوئی موقعہ نہ ملا۔یہاں تک کہ صحابہؓ مدینہ کے قریب جاپہنچے۔وہ چونکہ مسلمانوں کا اپنا علاقہ تھا صحابہؓ نے احتیاط کا پہلو پوری طرح ملحوظ نہ رکھا۔ایک دن دوپہر کے وقت صحابہ دور دور پھیل گئے اور مختلف درختوں کے نیچے چادریں تان کر سوگئے۔اس نے یہ موقع غنیمت سمجھا آگے بڑھا اور جس درخت کے نیچے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سورہے تھے وہاں پہنچ کر اس نے درخت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تلوار اتار لی اورپھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جگا کر کہا بتائو اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچاسکتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی تذبذب کے لیٹے لیٹے نہایت اطمینان او ریقین کے ساتھ فرمایا اَللّٰہُ۔بظاہر یہ ایک معمولی بات ہے تم خود کسی دشمن کے سامنے اَللّٰہُ کہہ کر دیکھو اس پر کوئی بھی اثر نہیں ہوگا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وثوق اور ایمان اور یقین کے ساتھ اَللّٰہُ کہا وہ ایسا زبردست تھا کہ دشمن نے صرف آپ کی زبان سے اَللّٰہُ کا لفظ نہیں سنا بلکہ اس نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔اس کا ہاتھ کانپ گیا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً تلوار کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور فرمایا اب بتائو تم کو کون میرے ہاتھ سے بچاسکتا ہے؟ اس نے کہا کہ آپ ہی رحم کریں تو کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔افسوس تم نے سن کر بھی سبق حاصل نہ کیا۔تم کہہ سکتے تھے کہ اللہ مجھے بچاسکتا ہے مگر تم نے میری زبان سے یہ بات سننے کے باوجود اللہ کا لفظ استعمال نہ کیا(صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ ذات الرقاع)۔اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے اس پر حجت تمام کردی اور بتادیا کہ تم یہ نہ سمجھو میں نے بناوٹ کے ساتھ اللہ کہا تھا۔اگر میں بناوٹ کے ساتھ کہتا تو تم بھی ایسا کہہ سکتے تھے بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ قریب ترین عرصہ میں تمہارے سامنے میں نے اللہ تعالیٰ پر اپنے اعتمادکا اظہارکیا تھا اور تم نے دیکھ لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ