تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 170
سوال کو عربی لغت والے انکار ابطالی کہتے ہیں۔ایک عرب کا قول ہے کہ اَلَسْتُمْ خَیْـرَ مَنْ رَکِبَ الْمَطَایَا (اقرب) کیا تم سواریوں پر چڑھنے والوں میں سے سب سے اچھے نہیں ہو؟ یعنی اچھے ہو۔درحقیقت یہ وہی حسابی اصول ہے کہ دو منفیاں ایک مثبت بنادیتی ہیں۔جب استفہام انکاری کے بعد نفی کا لفظ آجائے تو وہ مثبت کے معنے دینے لگ جائے گا کیونکہ منفی کی نفی مثبت کا مفہوم دیتی ہے۔مثلاً اگر طنزاً کہیں کیا تو عالم ہے؟ تو اس کے معنے ہوں گے کہ تو عالم نہیں ہے لیکن اگر یوں کہیں کیا تو عالم نہیں ہے؟ تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تو عالم ہے مگر باوجود عالم ہونے کے فلاں حرکت کرتاہے یا یہ کہ تو عالم ہے باوجود اس کے جاہل لوگ تجھ پر یہ اعتراض کرتے ہیں۔اسی طرح اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کے یہ معنے نہیں کہ تجھ سے ہم سوال کرتے ہیں کہ کیا تیراسینہ کھولا گیا ہے یا نہیں؟ بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تو بھی جانتا ہے کہ تیرا سینہ ہم نے کھول دیا ہے اور تیرے دشمن بھی جانتے ہیں کہ تیرا سینہ ہم نے کھول دیا ہے۔اس جگہ یہ سوال ہوسکتا ہے کہ کیوں نہ سیدھے سادھے الفاظ میں یہ کہہ دیا کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ کہا جاتا کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے تو اس سے صرف ایک خبر کا مفہوم نکلتا یعنی اللہ تعالیٰ اطلاع دیتا ہے کہ ہم نے سینہ کو کھول دیا لیکن یہ مفہوم نہ نکلتا کہ اس شرح صدر کا کوئی ظاہر نتیجہ بھی نکلا ہے یا نہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس شرح صدر کا کوئی احساس ہوا ہے یا نہیں اور کفا رنے بھی اس کا کوئی ثبوت دیکھا ہے یا نہیں اور یہ مضمون ظاہر ہے کہ بہت ہی نامکمل ہوتا۔لیکن اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کہہ کر اس امر پر زور دے دیا کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے اور یہ امر تو بھی جانتا ہے اور تیرے دشمن بھی جانتے ہیں یعنی ایک چھپی ہوئی بات نہیں ایک ظاہر اور کھلا نشان ہے جس کا انکار کوئی نہیں کرسکتا۔غرض ایسا فقرہ استعمال کرکے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ حقیقت دوسروں پر مخفی نہیں شرح صدر کی اہمیت کو ایسا واضح کردیا ہے کہ اور کوئی مختصر الفاظ اس مضمون کو بیان نہ کرسکتے تھے۔یہ مضمون اس رنگ میں بھی اچھی طرح سمجھا جاسکتاہے کہ ہم فرض کریں ایک شخص ہمارے پاس آئے اور ہمیں خبر پہنچائے کہ میں نے آپ کے گھر میں گوشت پہنچادیا ہے اب جہاں تک اس خبر کا تعلق ہے ہمیں اس سے صرف اتنا ہی پتہ لگ سکتاہے کہ زید کہتا ہے اس نے ہمارے گھر میں گوشت پہنچادیا ہے۔اب واقعہ میں گوشت پہنچا ہے یا نہیں پہنچا اس کا اس فقرہ سے علم نہیں ہوتا۔ایسی حالت میں زید کبھی یہ نہیں کہے گا کہ کیا میں نے گوشت تمہارے گھر میں نہیں پہنچادیا۔بلکہ وہ صرف اتنا کہے گا کہ میں نے تمہارے گھر میں گوشت پہنچادیا ہے۔لیکن اگر شخص مخاطب گھر جائے اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ گوشت پہنچ گیا ہے تو اس کے بعد زید اُسے بے شک کہہ سکے گا کہ کیا میں نے