تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 160

دنیا میںہمارے اور بھی بہت سے یتیم بندے ہیں اُن کی پرورش تیرے ذمہ ہے اور تیرا فرض ہے کہ تو اُن کی نگرانی رکھے اور ان کی تکالیف کا ازالہ کرے۔وہ حدیث جواوپر بیان کی جا چکی ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ یتامیٰ و مساکین کی پرورش کا معاملہ خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ اس پرورش یا عدم پرورش کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔جوشخص یتیم سے حسن سلوک کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرتا ہے اور جو شخص یتیم سے بے اعتنائی کرتا یا اس سے ظالمانہ سلوک کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر بھڑکاتا ہے۔لَا تَقْھَرْ کہہ کر اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ یتیم کی پرورش اس رنگ میں نہیں کرنی چاہیے کہ وہ خراب ہو جائے۔یعنی نہ ایسی سختی کرو کہ جس کے نتیجہ میں اس کے قویٰ دب جائیں اور وہ ترقی سے محروم ہو جائے اور نہ ایسی نرمی کرو کہ جس سے ناجائز فائدہ اٹھا کر وہ اپنے اوقات اور اپنے قویٰ کو برباد کر دے۔قَھْرٌ کے معنے دراصل غلبہ کے ہوتے ہیں۔پس لَا تَقْھَرْ کے معنے یہ ہوئے کہ اُس سے ایسا معاملہ نہ کرو جس کے نتیجہ میں تم اُس کے قوائے دماغیہ اور جسمانیہ پر غالب آجائو اور اس کی ترقی کو نقصان پہنچادو۔انسانی ترقی کو دو ہی طرح نقصان پہنچتا ہے یا بے جا سختی سے یا بے جا نرمی اور محبت سے۔پس لَا تَقْھَرْ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے بے جا سختی سے بھی روک دیا اور بے جا نرمی سے بھی منع فرما دیا اور نصیحت کی کہ یتیم سے تم ایسا ہی معاملہ کرو جو اس کی اچھی تربیت کے لئے ضروری ہو۔وَ اَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ۰۰۱۱وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْؒ۰۰۱۲ اور سوالی کو تو جھڑک مت۔اور تو اپنے رب کی نعمت کا ضرور اظہار کرتا رہ۔حلّ لُغات۔لَا تَنْھَرْ لَا تَنْھَرْ : نَـھَرَ سے نہی مخاطب کا صیغہ ہے اور نَـھَرَ السَّائِلَ کے معنے ہیں زَجَرَہٗ سائل کو ڈانٹ ڈپٹ کی (اقرب) پس لَا تَنْھَرْ کے معنے ہوں گے۔مت ڈانٹ۔تفسیر۔فرماتا ہے سائل کو تم جھڑکو نہیں کیونکہ تم بھی سائل تھے محبت کی بھیک ہم سے مانگنے کے لئے آئے تھے۔ہم نے تمہارے سوال کو رد نہ کیا بلکہ تمہارے دامن کو گوہر مقصود سے بھر کر لوٹایا۔اب تم سے اور لوگ محبت کی بھیک مانگنے آئیں گے تمہارا فرض ہے کہ تم ان سائلوں کی طرف ہمہ تن متوجہ رہو اور ان کی خواہشات کو پورا کرو۔اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ تحدیث نعمت دو طرح ہوتی ہے ایک اس طرح کہ انسان علیحدگی میں اللہ تعالیٰ