تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 159

تمہاری پرورش کے سامان پیدا کئے۔اب اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میںہمارے اور بھی بہت سے یتیم بندے ہیں تم اُن سے کبھی ایسا سلوک مت کرو جو اُن کو ذلیل کرنے والا ہو۔بلکہ ہمیشہ اُن کی فلاح اور بہبودی کا خیال رکھو۔ان کا اکرام کرو۔ان کو اُبھارنے اور ترقی دینے کی کوشش کرو اور اُن کی ضروریات کو پورا کرو۔حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے فرمائے گا۔اے میرے بندو! میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہیںکھلایا۔میںپیاسا تھا تم نے مجھے پانی نہیں پلایا میںبیما ر تھا تم نے میری بیمار پُرسی نہیں کی۔وہ لوگ گھبرا جائیں گے اور کہیں گے۔خدایا تُو یہ کیا کہہ رہا ہے تو کب بھوکا تھا کہ ہم نے تجھے کھانا نہیں کھلایا۔کب پیاسا تھا کہ ہم نے تجھے پانی نہیں پلایا۔کب مریض تھا کہ ہم نے تیری بیمار پُرسی نہیں کی۔تُو تو خود سارے جہاں کو کھانا کھلاتا۔اُن کو پانی پلاتا اور اُن کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ہم ناچیز بندے کیا طاقت رکھتے تھے کہ اے ہمارے رب تیری بیمار پُرسی کرسکتے یا تجھے کھانا کھلا سکتے یا تجھے پانی پلا سکتے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ درست ہے۔مگر میری مراد یہ ہے کہ دنیا میں میرے بعض بندے بھوکے تھے تم نے اُنہیں کھانا نہیں کھلایا۔بعض بندے پیاسے تھے تم نے اُنہیں پانی نہیں پلایا۔بعض بندے ننگے تھے تم نے اُنہیں کپڑا نہیں دیا۔جب تم نے اُن کی ضروریات کا خیال نہیں رکھا تو گویا تم نے ان کی طرف سے بے پرواہی نہیں کی بلکہ میری طرف سے بے پرواہی کی۔وہ میرے بندے تھے جو مختلف قسم کی تکالیف میں مبتلا تھے اس لئے اُن کو کھلانا یا پلانا یا پہنانا ایسا ہی تھا جیسے تم مجھے کھلاتے یا مجھے پلاتے یا میری بیمار پُرسی کرتے۔مگر تم نے اس فرض کو ادا نہیں کیا( صحیح مسلم کتاب البر و الصلۃ باب فضل عیادۃ المریض) انجیل میں یہ واقعہ اس طرح آتا ہے کہ خدا تعالیٰ قیامت کے دن بعض بندوں کو بلائے گا اور فرمائے گا۔اے میرے بندو! میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا۔میں پیاساتھا تم نے مجھے پانی پلایا۔میںپردیسی تھا تم نے مجھے اپنے گھر میں اُتار ا۔ننگا تھا تم نے مجھے کپڑا پہنایا۔بیمار تھا تم نے میری خبر لی۔قید میں تھا تم میرے پاس آئے آئو اب میں تمہیں اس کی جزادوں۔تب لوگ کہیں گے اے خداوند ! ہم نے کب تجھے بھوکا دیکھ کر کھانا کھلایا یا پیاسا دیکھ کر پانی پلایا۔ہم نے کب تجھے پردیسی دیکھ کر گھر میں اُتارا یا ننگا دیکھ کر کپڑا پہنایا۔ہم کب تجھے بیمار یا قید میں دیکھ کر تیرے پاس آئے؟ تب اللہ تعالیٰ بندوں کے جواب میںفرمائے گا۔کہ اے میرے بندو!جب تم نے اپنے بھائیوں میں سے کسی کے ساتھ یہ سلوک کیا تو میرے ہی ساتھ کیا۔اس لئے اب میںتمہیں اس کی جزاء دیتا ہوں اور جنت میں داخل کرتا ہوں۔(متی باب ۲۵ آیت ۳۵ تا ۴۰) فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ میں اسی طرف اشارہ ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو یتیم تھا ہم نے تجھے پالا۔اب