تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 158
انسان ہیں اور روحانی یتیم ابوبکر ؓ اور عمر ؓ اور عثمان ؓ اور علی ؓ اور طلحہ ؓ اور زبیر ؓ تیری تعلیم سے مطمئن ہو کر گواہی دے رہے ہیں کہ ہم بڑے بھوکے تھے اگر سیری حاصل ہوئی تو اسی خوان ہُدیٰ سے جواس پاک نفس انسان نے پیش کیا۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ آئندہ بھی خدا ہمیشہ تیرے ساتھ ہو گا ہمیشہ تیری تائید کرے گا۔ہمیشہ تجھے اپنی نصرت عطا کرے گا۔جو خدا آج تک تیرے کام آتا رہا ہے جس نے ایک لمحہ کے لئے بھی تجھے کبھی نہیں چھوڑا۔وہ آئندہ تجھے کس طرح چھوڑ سکتا ہے؟ اس آیت کے یہ بھی معنے ہیں کہ آپؐکے روحانی عیال جو ں جوںزیادہ ہوتے جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کی خبرگیری کے سامان پیدا کرتا جائے گا۔چنانچہ جس قدر معلم علم دین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے اور کسی نبی یا بزرگ کو نہیں ملے۔اسی وجہ سے آپؐنے فرمایا اَصْـحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ بِاَیِّـھِمُ اقْدَیْتُمُ اھْتَدَیْتُمْ۔میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جس کے پیچھے بھی چلو گے ہدایت پا جائو گے۔فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ۰۰۱۰ پس یتیم کو تُو دبا نہیں۔حلّ لُغات۔لَا تَقْھَرْ لَا تَقْھَرْ۔قَھَرَ سے نہی مخاطب کا صیغہ ہے اور قَھَرَہُ کے معنے ہیں غَلَبَہٗ۔اس پر غالب آیا۔نیز کہتے ہیں اَخَذْتُـھُمْ قَھْرًا۔اور مراد یہ ہوتی ہے اَیْ مِنْ غَیْـرِ رِضَاھُمْ یعنی بغیر ان کی رضامندی کے ان کو کام پر لگا لیا۔(اقرب) مفردات میںہے اَلْقَھْرُ : اَلْغَلَبَۃُ وَالتَّذْلِیْلُ مَعًا وَیُسْتَعْمَلُ فِیْ کُلِّ وَاحِدٍ مِّنْـھُمَا یعنی قہر کے معنے ایسے غلبہ کے ہیں جس کے ساتھ مغلوب کی تذلیل بھی ہو۔بعض اوقات قھر کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور ا س کے معنے صرف غلبہ کے ہوتے ہیں یا صرف تذلیل کے (مفردات) پس لَا تَقْھَرْ کے معنے ہوئے۔تو مغلوب نہ کر (۲) ذلیل نہ کر۔تفسیر۔فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم نے تیرے ساتھ غیر معمولی طور پر ہمیشہ اچھا سلوک کیا ہے تو آئندہ یتیم کے متعلق ہماری تعلیم تمہیںیہ ہے کہ تم اس سے وہ معاملہ کیا کرو جو لَا تَقْھَرْ والا ہو۔تمہیں جن اخلاق سے ہم نے نوازا ہے ان کو ہمیشہ بڑھاتے چلے جائو اور اس بات کو ہمیشہ مد نظر رکھو کہ تم یتیم تھے ہم نے