تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 157

بیٹھیں۔اور اس کی پیاری اور میٹھی آواز ہمارے کانوں میںآئے۔مگر وہ بے بس تھے بے کس تھے۔کوئی راستہ ان کو نظر نہیں آتا تھا۔ایک تڑپ تو موجود تھی مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ اس تڑپ کا کیا علاج ہے۔یہ لوگ جو اپنی اپنی جگہوں میں خدا کی رضا کے لئے تلملا رہے تھے۔ان میں سے کوئی ابوبکر تھا، کوئی عمر تھا، کوئی عثمان تھا، کوئی علی تھا، کوئی زید تھا، کوئی طلحہ تھا۔کوئی زبیر تھا۔یہ سب لوگ خدا کی محبت میںگھلے جا رہے تھے۔ان کی آنکھیںگریاں اور ان کے دل بریاں تھے۔اس لئے کہ ان کا محبوب ان سے ملے۔فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے جب دیکھا کہ تیرے سوا اور لوگ بھی مکہ بلکہ ساری دنیا میںہیں جو اپنے دلوں میں ہماری محبت رکھتے اور ہماری جستجو کے لئے بےچین ہیں تو ہم نے ان کی تسلی کے لئے تجھے وہ روحانی غذا مہیا فرما دی جس کے بعد ان کی بےکلی جاتی رہی اور وہ پوری سرعت کے ساتھ ہماری طرف دوڑنا شروع ہو گئے۔گویا اس آیت میں اس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرفطرت کی تسلی کی تعلیم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہے اور اس طرح روحانی عیال کی خبرگیری کا سامان آپ کو پوری طرح دے دیا ہے۔کوئی فطرت نہیں جس کی آپؐخبر گیری نہ کر سکتے ہوں اور کوئی فطرت نہیں جس کے مناسب حال تعلیم آپؐکی کتاب میں موجود نہ ہو۔بے شک کفار اسلام کی اس جامع تعلیم کو تسلیم نہیں کر سکتے مگر انہیں اتنا تو دیکھنا چاہیے کہ جو لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں ان کے دل کی کیا کیفیت ہے اور آیا ان کو سکون اور اطمینان نصیب ہے یانہیں۔آخر وجہ کیا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیںوہ ایمان سے پہلے تو بے قرار تھے، بے چین اور مضطرب تھے۔سمجھتے تھے کہ ہمیں منزل مقصود کا پتہ نہیں مگر جب ایمان لے آئے تو ان کے دلوں میں ٹھنڈک پڑگئی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ ہم جس مقصد کے لئے پیدا کئے گئے تھے وہ مقصد ہمیں حاصل ہو گیا ہے۔یہی بات اس زمانہ میںہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کے متعلق لوگوں کے سامنے بار بار پیش کرتے ہیں کہ بے شک تم مخالفت کرتے ہو مگر اس کا کیا جواب ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں ان کے دل مطمئن ہو چکے ہیں تسلی کی ایک لہر ہے جو اُن کے قلوب میںپائی جاتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا خدا ہم سے مل گیا ہے۔کیا کسی کاذب انسان کے ساتھ تعلق رکھنے کے نتیجہ میں بھی یہ ثلجِ خاطر حاصل ہو سکتا ہے۔یہ برکت تو اسی شخص کو مل سکتی ہے جس نے کسی سچے کا دامن پکڑا ہوا ہو۔غرض اس آیت میںاللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ صرف تجھے ہم نے پالا اور تیری پرورش کا سامان کیا بلکہ تیرے ذریعہ سے اور ہزاروں یتامیٰ و مساکین کی پرورش کا بھی ہم نے انتظام کر دیا۔جسمانی یتیم، جسمانی مسکین، جسمانی غریب اور جسمانی نادار روٹی کھا کر شہادت دے رہے ہیں۔کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک راستباز