تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 150

کو گمراہ پایا اور پھر انہیںہدایت دی۔ہم ان سے کہتے ہیں کہ دنیا میںہدایت کی دو ہی قسمیںہوتی ہیںیا ہدایت شرعی ہو جس سے انسان انحراف اختیار کرے یا ہدایت طبعی اور فطری ہو جس کے خلاف عمل کرنے کے لئے وہ تیار ہو جائے۔ان دو قسم کی ہدایتوں کے سوا اور کوئی ہدایت نہیںہو سکتی۔پس وہ لوگ جو اپنے معنوں پر اصرار کرتے ہیں ہم ان سے دریافت کرتے ہیں کہ اس آیت کے کیا معنے ہوں گے؟ کیا یہ معنے ہوں گے کہ ضَلَّ مُـحَمَّدٌ عَنْ شَـرِیْعَۃِ الْمُسْتَقِلّۃِ الَّتِیْ کَانَتِ الْقَوْمُ عَلَیْـھَا۔کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اس شریعت سے گمراہ ہو گئے جس پر قوم چل رہی تھی۔اگر ہم یہ معنے کریں تو بالکل غلط ہوں گے کیونکہ اس وقت کوئی شریعت تھی ہی نہیں اور کوئی شخص بھی یہ تسلیم نہیں کرتا خواہ وہ اسلام کا کیسا ہی شدیدمعاند کیوں نہ ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کسی شریعت پر قائم تھی اور آپ اس شریعت سے پھر گئے تھے۔پس جو بات بالبداہت غلط ہے اور جس کی تکذیب کے لئے کسی دلیل کی بھی ضرورت نہیں وہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کس طرح کی جاسکتی ہے اور کس طرح اس آیت کے یہ معنے کئے جا سکتے ہیں کہ آپ شریعت سے گمراہ ہو چکے تھے مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو ہدایت دے دی۔جب کوئی شریعت آپ کی قوم میں موجود ہی نہیں تھی اور آپ کسی شریعت کے مخاطب ہی نہیںتھے تو گمراہی اور ضلالت کے کیا معنے ہوئے؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس قوم میںپیدا ہوئے تھے اس کے پاس کوئی شریعت نہیںتھی، کوئی آسمانی قانون نہیںتھا جس پر وہ عمل کرتی، کوئی وحی نہیں تھی جس کو وہ اپنے سامنے رکھا کرتی۔ایسی صورت میںہم یہ معنے کس طرح کر سکتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریعت سے پھر گئے تھے۔شریعت تو اس وقت کوئی تھی ہی نہیں جس کے آپؐمخاطب ہوتے۔دوسرے معنے یہ ہو سکتے ہیں کہ شریعت تو اس وقت بے شک کوئی نہیں تھی مگر آپ نعوذباللہ بد اخلاق تھے، جادۂ اعتدال سے منحرف ہو چکے تھے، ہدایت طبعی جو اخلاقی اور فطرتی ہدایت ہوتی ہے اس کے قانون کو آپؐنے توڑ رکھا تھا اور خدا تعالیٰ نے اسی کی طرف وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى میں اشارہ کیا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیا یہ معنے یہاں چسپاں ہو تے ہیں یا نہیں۔دشمن کہتا ہے کہ ضَآلًّا کے معنے بد اخلاق کے ہیںگویا اس کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا داغ دار ہونا اس آیت میںبیان کیا گیا ہے مگر دشمن تو اس آیت کے یہ معنے کرتا ہے اور خدا تعالیٰ دوسری جگہ ان معنوںکو بالکل غلط اور بے ہودہ قرار دیتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے تُو لوگوں کو چیلنج دے کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ تیری چالیس سالہ ابتدائی زندگی کا کوئی ایک عیب ہی ثابت کر دیں چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چیلنج دیا اور فرمایا فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (یونس :۱۷) میںتم میں