تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 145
اور ایک ہوتا ہے راستے کا علم نہ ہونا۔یہ دو الگ الگ مفہوم ہیں اور یہ دونوں معنے ضَلَّ میں پائے جاتے ہیں اور ضَلَّ فُلَانٌ اَلْفَرَسَ وَ الْبَعِیْرَ کے معنے ہوتے ہیں ذَھَبَا عَنْہُ گھوڑا یا اونٹ کھویا گیا اور ہاتھ سے جاتا رہا ضَلَّ عَنِّیْ کَذَا کہتے ہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں ضَاعَ۔وہ چیز ضائع ہو گئی۔اور ضَلَّ الرَّجُلُ کے معنے ہوتے ہیں مَاتَ وَصَارَ تُرَابًا وَعِظَامًا وہ مر گیا اور مر کے مٹی ہو گیا۔ضَلَّ الْمَآءُ فِی اللَّبَنِ کے معنے ہوتے ہیں خَفِیَ وَغَابَ۔دودھ میں پانی غائب ہو گیا (اقرب) ضَلَّ کے معنے کسی کام میںمنہمک ہو جانے کے بھی ہوتے ہیں جیسے قرآن کریم میں آتا ہے ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا (الکھف :۱۰۵) ان کی تمام تر کوششیں دنیوی زندگی کے کاموں میں ہی صرف ہو گئیں اسی طرح ضَلَالٌ کے ایک معنے محبت شدیدہ کے بھی ہوتے ہیں در اصل یہ معنی بھی ضَلَّ سَعْيُهُمْ والے معنوں سے ملتے جلتے ہیں کیونکہ محبت میں بھی انسان کامل طور پر ایک طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔مفردات والے لکھتے ہیں یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسبت ان کے بیٹوں نے کہا اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ( یوسف:۹ ) ہمارا باپ کھلی کھلی ضلال میں مبتلا ہے۔اس میں ضلال کے معنے گمراہی کے نہیں بلکہ اِشَارَۃً اِلٰی شَغَفِہٖ بِیُوْسُفَ وَشَوْقِہٖ اِلَیْہِ۔اس میں ان کی اس محبت اور شوق ملاقات کی طرف اشارہ ہے جو وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق اپنے دل میں رکھتے تھے۔ضلال کے معنے بے انتہا محبت کے گویا ضلال کے ایک معنے کمال درجہ کی محبت اور انتہا درجہ کے شوق کے بھی ہیں اسی طرح قرآن کریم میںجو آتا ہے قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا اِنَّا لَنَرٰىهَا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ (یوسف:۳۱ ) اس میں بھی ضلال کے معنے بے انتہا محبت کے ہیں غرض ضلال کا لفظ جہاں اور معنوںکے لئے استعمال ہوتا ہے وہاں اس کے ایک معنے انتہا درجہ کی محبت کے بھی ہوتے ہیں۔(مفردات) تفسیر۔حل لغات میں جو مختلف معانی بیان کئے جا چکے ہیں ان کے لحاظ سے وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى کے بھی مختلف معنے ہو جائیں گے۔وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى کے چار معنے پہلے معنے تو اس آیت کے یہ ہیں کہ تمہیں ہمارا راستہ معلوم نہ تھا، تم شریعت سے بے خبر تھے، تمہیں معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے کیا ذرائع ہیں۔ایسی حالت میںہم نے اپنی شریعت تم پر نازل کی اور تمہیں اپنی طرف آنے کا راستہ دکھادیا۔دنیا کا کوئی شخص اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئے تھے جس میں کوئی شریعت نہیں تھی مگر اس کے باوجود آپؐدن رات خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتے تھے اور اس کے قرب اور وصال کے حصول کے متمنی تھے اُس ملک میں