تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 10

ابرہیم ؑ کی نسل میںایک کامل بیٹے کی ضرورت تھی ایسے بیٹے کے بغیریہ کام کبھی تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔جب ابراہیم ؑ نے یہ دعا کی تھی کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا تو یہ امر ظاہر ہے کہ فِیْھِمْ سے مراد ان کی اپنی قوم تھی اور ان کا مطلب یہ تھا کہ تو میری قوم میں ایک کامل رسول بھیجیو۔پس ابراہیم ؑ ایک کامل بیٹے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیںجس کے بغیر یہ کام تکمیل نہیں پا سکتا تھا اب اس سورۃ میں اس شخصِ کامل کی استعدادوں کا تفصیلی ذکر فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ فلاں فلاں استعدادوں والے ہی یہ کام کر سکتے ہیں دوسری استعدادوں والے یہ کام نہیں کر سکتے۔اصل میں بحر محیط کے مصنف کو سورج اور چاند کے لفظوں سے شبہ ہوا ہے یا آسمان اور زمین کے الفاظ سے یہ شبہ پیداہوا ہے کہ شایدان الفاظ کا تعلق پہلی سورۃ سے ہے کیونکہ اس سورۃ کے شروع میں ہی وَ الشَّمْسِ وَضُحٰىهَا۔وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۔وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۔وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا۔وَالسَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۔وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰىهَا(الشمس:۲تا۷) کے الفاظ آگئے ہیں۔چونکہ ابتداء میں ہی یہ الفاظ آگئے ہیںانہوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا کہ ان الفاظ کا پہلی سورۃ سے تعلق ہے اور چونکہ پہلی سورۃ میں مکہ کی قسم کھائی گئی تھی اور یہاں سورج اور چانداور آسمان اور زمین کا ذکر آتا تھا انہوں نے خیال کر لیا کہ اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے تعلق یہ ہے کہ پہلے مکہ کی قسم کھائی تھی اب کچھ بلندیوں اورپستیوں کی قسم کھائی گئی ہے۔حالانکہ یہ الفاظ اصل مقصود اس سورۃ میں نہیں بلکہ یہ مقصود کی تفاصیل بیان کر نے کے لئے بطور امثلہ کے آئے ہیں اصل مقصود تو وہ نفسِ کاملہ ہے جو تقویٰ اور فجورکی راہوں سے کامل طور پر واقف ہوتاہے اور پھر اسے ابھارتا چلا جاتا ہے یعنی صرف دینِ فطرت پر نہیں رہتا بلکہ دینِ شریعت کو بھی حاصل کرتا ہے اس نفسِ کاملہ اور اس کی استعدادوں کو آسانی سے سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہاںبعض مثالیں بیان فرمائی ہیں۔مگر انہوں نے سمجھا کہ اصل مقصود سورج اور چاند ہے حالانکہ اصل مقصود سورج اور چاند نہیں بلکہ نفسِ کاملہ ہے۔پہلی سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ وَوَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ہم والد کو بھی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس کے ولد کو بھی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اب یہ بتانا چاہیے تھا کہ وہ ولد کیسا ہونا چاہیے چنانچہ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ اس کی وضاحت کرتا ہے اور بتاتاہے کہ جس ولد کے متعلق ہماری طرف سے یہ خبر دی گئی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرے گا، کتاب اور حکمت سکھائے گا اور لوگوں کے نفوس کا تزکیہ کرے گا وہ کن استعدادوں کا مالک ہو گا چنانچہ ان استعدادوں کی یہاں تشریح کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ نفسِ کامل میں کون کون سی استعدادیں ہونی چاہئیں۔یہ بھی بتایا ہے کہ نفسِ کامل دو قسم کے ہوتے ہیں اور پھران دونوں کی مثالیں بیان کر کے اس امر کو واضح کیا ہے کہ ا س زمانہ میںکس قسم کے نفسِ کامل کی ضرورت ہے اور یہ کہ جب تک ایسا نفسِ کامل نہ آئے