تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 131
موجود ہے حضورؐ جو بھی حکم دیں گے ہمارے وہ بھائی اس کو پوری خوشی کے ساتھ قبول کریں گے اور اپنی جانیں اسلام کے لئے قربان کر دیں گے(السیرۃ الحلبیۃ باب ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم)۔پھر ہم اُحد کے موقعہ پردیکھتے ہیں کہ صحابہؓ نے فدائیت کا کیسا شاندار نمونہ دکھایا۔ایک مہاجر حضرت طلحہ ؓ تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے دشمن کے تیروں کا اصل نشانہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اس لئے جو بھی تیر آپؐکی طرف آتا حضرت طلحہؓ اس کو اپنے ہاتھ پر لے لیتے۔یہاں تک کہ تیروں کی بوچھاڑ کی وجہ سے ان کا ہاتھ شل ہو گیا۔کسی نے بعد میں ان سے پوچھا کہ جب آپ کو تیر لگتے تھے تو آپ کے منہ سے آہ نہیں نکلتی تھی؟ حضرت طلحہ ؓ نے جواب دیا آہ نکلنا تو چاہتی تھی مگر میں نکلنے نہیں دیتا تھا تا ایسا نہ ہو کہ میں آہ کروں اور کوئی تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جالگے۔دوسرا واقعہ مالک انصاری کا ہے۔پہلی فتح کے بعد وہ الگ جا کر کھجوریںکھانے لگے کیونکہ سخت بھوکے تھے۔پھرتے ہوئے ایک جگہ آئے تو انہوں نے دیکھا حضرت عمر ؓ ایک ٹیلہ پر بیٹھے ہو ئے رو رہے تھے انہوں نے حیرت سے کہا عمر کیا ہوا یہ رونے کا مقام ہے یا ہنسنے کا؟ خدا تعالیٰ نے اسلام کو فتح دی ہے اور تم بیٹھے رو رہے ہو! حضرت عمر ؓ نے کہا تم کو پتہ نہیںکہ فتح کے بعد کیا ہوا؟وہ کہنے لگے کیا ہوا؟ حضرت عمر ؓ نے کہا فتح کے بعد لڑائی کا پانسہ پلٹ گیا۔مسلمان مالِ غنیمت جمع کرنے میںمشغول تھے، لشکر تتر بتر تھا کہ دشمن نے موقعہ پا کر حملہ کر دیا اور اس نے حملہ ایسا شدید کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے۔مالکؓ نے کہا عمر ؓ پھر بھی تو بیٹھ کر رونے کا کوئی موقعہ نہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو پھر جہاں ہمارا پیارا گیا وہیںہم جائیںگے۔یہاں بیٹھنے کا کون سا موقعہ ہے۔یہ کہا اور صرف ایک ہی کھجور جو ان کے ہاتھ میں رہ گئی تھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے میرے اور جنت کے درمیان سوائے اس کھجور کے اور کون سی چیز حائل ہے۔یہ کہہ کر انہوں نے کھجور کو پھینک دیا اور تلوار لے کر دشمن کے لشکر پر ٹوٹ پڑے۔اب بظاہر ان کے دل میں یہ خیال بھی آسکتا تھا کہ جس شخص کے لئے ہم قربانی کر رہے تھے جب وہی نہیں رہا تو اب قربانی کرنے کا کیا فائدہ ہے مگر وہ یہ نہیں کہتا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربانی کر رہے تھے جب وہ نہیں رہے تواب قربانی کا کیا فائدہ۔بلکہ وہ کہتے ہیںجس کام کے لئے وہ کھڑے ہوئے تھے اس کام کے لئے ہمیںاسی جوش اور اسی ولولہ کے ساتھ قربانی کرنی چاہیے جس جوش اور ولولہ کے ساتھ ہم آپؐکی زندگی میںقربانی کیا کرتے تھے اگر وہ زندہ نہیںرہے تو پروا نہیں۔میں اکیلا جائوں گا اور دشمن سے لڑوں گا۔چنانچہ وہ اکیلے تلوار لے کر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ایک آدمی تین ہزار کے لشکر کے مقابلہ میںکیا کر سکتا ہے چنانچہ لڑائی کے بعد ان کے جسم کے ستر ٹکڑے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لائے گئے تب ان کی لاش مکمل ہوئی۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ کس طرح