تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 130
نہیں(صحیح بـخاری کتاب الادب باب من اخبر صاحبہ بما یقال فیہ )۔مگر قتل کرنے کی خواہش کرنے والے کو منع فرما دیا(صحیح مسلم کتاب الزکاۃ باب ذکر الخوارج و صفاتھم )۔جسمانی لحاظ سے دیکھو تو وہ شخص جو اکیلا مکہ میںسے نکلا تھا دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں داخل ہوا۔روحانی لحاظ سے دیکھو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو مکہ میں چار پانچ لوگوں کو پالنے والا تھا وہ مدینہ میں لاکھوں کو پالنے والا بن جاتا ہے اور ان کو اسی طرح پالتا ہے جس طرح مکہ میں وہ چند افراد کو جنہیںانگلیوں پر شمار کیا جا سکتا تھا پالتا تھا۔جب فتوحات ہوئیںتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دن بازار سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک اچھا کوٹ خرید لائے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کوٹ مجھے بڑا اچھا لگا تھا میں آپ کے لئے خرید لایا ہوں، اب فتوحات ہوئی ہیں، بڑے بڑے بادشاہ اور وفود آپؐسے ملنے کے لئے آتے ہیں۔جب وہ آئیں آپؐیہ کوٹ پہن لیا کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو آپؐکا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپؐنے فرمایا خد ا تعالیٰ نے مجھے ان کاموں کے لئے نہیںبھیجا، میں اس کوٹ کو نہیں پہن سکتا اسے واپس لے جائو (صحیح بخاری کتاب الأدب باب من تجمل للوفود)۔غرض یہ نہیںہوا کہ فتوحات کے وقت آپ کی حالت میں کوئی فرق پیدا ہو جاتا اور آپ زیادہ اعلیٰ لباس یا زیادہ آسائش کے سامان اپنے لئے پسند فرماتے بلکہ ہمیشہ آپؐکے تقویٰ اور بِرّ میںزیادتی ہی ہوتی چلی گئی۔پھر محبوبیت کا یہ حال تھا کہ روز بروز اس میں کمال پیدا ہوتا گیا۔مکہ کے لوگ آپؐکے بے شک فدائی تھے مگر مکہ سے نکلنے کے بعد انہوں نے اپنی فدائیت کے نظارے دکھلائے۔مکہ میں صحابہؓ کی فدائیت کا جو نظارہ نظر آتا ہے وہ بہت کم ہے اور اس کی مثالیںزیادہ نہیں۔ایک حضرت علیؓ کا واقعہ ہے جو فدا ئیت کے ثبوت میںپیش کیا جاسکتاہے اور یا پھر غارِ ثور میں حضرت ابو بکر ؓ کی فدائیت کا واقعہ ہے جو نظرآتا ہے۔ان کو مستثنیٰ کر تے ہوئے مکہ میں فدائیت کے نظارے بہت کم نظر آتے ہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیںمکہ والے مظالم سے تنگ آکر حبشہ چلے جاتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑجاتے ہیں۔مگر مدینہ میں آپؐکو جو انصار و مہاجرین کی جماعت ملی اس نے آپؐسے جس محبت کا سلوک رکھا ہے اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتی۔جنگِ بدر کے موقعہ پر انصار نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک الگ مقام بنا دیا اور وہاں دو تیز رفتار اونٹنیاں باندھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر ؓ کو اس جگہ بٹھا دیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! لوگوں کو پتہ نہیں تھا کہ جنگ ہونے والی ہے ورنہ ہمارے دوسرے بھائی بھی اس سعادت سے محروم نہ رہتے۔یا رسول اللہ ! اگر ہم سب کے سب مارے جائیںتو آپؐاور ابوبکر ؓ ان تیزرفتار اونٹنیوں پر سوار ہو کر مدینہ تشریف لے جائیں وہاں اسلام کی ایک بہادر فوج