تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 129

پیش کیا جاسکتا ہے تو پھر اس بات کا کیا جواب ہے کہ ان فتوحات کے بعد اسلام کا تنزل شروع ہو گیا اور آخرت اُولیٰ سے بہتر نہ رہی۔میں اِس کوبھی درست سمجھتا ہوں اور اُس کو بھی درست سمجھتا ہوں۔اصل بات یہ ہے کہ خد اتعالیٰ نے جو کچھ فرمایا تھا وہ یہ تھا کہ وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہمیشہ یہ قانون رہے گا کہ ان کی آخرت اولیٰ سے بہتر ہو گی۔جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود رہے اسلام بڑھتا رہا اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے چھوڑ دیا اسلام کا تنزل شروع ہو گیا۔عراق اور شام اور مصر مسلمانوں کو اس لئے ملے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود تھے۔بے شک جسمانی اعتبار سے آپؐوفات پا چکے تھے مگر روحانی اعتبار سے آپؐکا وجود امت میں موجودتھا اور گو جسد ِ عنصری کے ساتھ آپؐدنیا میں زندہ نہیں تھے مگر ابوبکر ؓ کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ موجود تھے۔عمر ؓ کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ موجود تھے۔عثمان ؓ کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ موجود تھے۔علی ؓ کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ موجود تھے۔یہی وجہ تھی کہ فتوحات پر فتوحات ہوتی چلی گئیں مگر جب وہ لوگ آگئے جن کے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نہ تھے مسلمانوں کا تنزل شروع ہو گیا۔آخر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ تو نہیں کہا کہ وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّیَزِیْد۔یزید کے لئے بھی آخرت اُولیٰ سے بہتر ہو گی۔خدا تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا تھا وہ یہ تھا کہ وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لئے آخرت اُولیٰ سے بہتر ہو گی چنانچہ جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عملی طور پر دنیا میں موجود رہے مسلمانوں کے ساتھ بھی یہ وعدہ پورا ہوتا رہا۔جب وہ لوگ آگئے جن کو محمد(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نہیں کہا جا سکتا تھاجو آپؐکے نقشِ قدم پر چلنے والے نہیں تھے تو خدا تعالیٰ نے بھی ان کو چھوڑ دیا۔پھر دیکھو وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى کی صداقت کا یہ کیسا شاندار نظارہ تھا کہ جب آپؐبدر کی جنگ پر تشریف لے گئے تو صرف ۳۱۳ صحابہ ؓ آپؐکے ساتھ تھے۔اُحد کی جنگ آئی تو ایک ہزار صحابہ ؓ آپؐکے ساتھ تھے۔خندق کی جنگ آئی تو تین ہزار صحابہ ؓآپؐکے ساتھ تھے۔فتح مکہ کا وقت آیا تو دس ہزار صحابہؓ آپ کے ساتھ تھے۔غرض وَلَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى کے مطابق یہ تعداد بڑھتی چلی گئی۔پھرآپؐکا تقویٰ اور صلاح بھی ترقی کرتے چلے گئے۔دولت و امارت نے آپ کو جابر اور متشدد نہیں بنایا وہی غربا ء پروری وہی انکسار اور وہی عبادت اور وہی استغناء آخر تک رہا۔فتح مکہ کے بعد آپ کے گلے میں ایک شخص نے پٹکا ڈال دیا مگر آپؐخاموش رہے(مسند احمد بن حنبل مسند انس بن مالک )۔ایک ظالم نے یہ اعتراض کیا کہ تِلْکَ قِسْمَۃٌ لَّا تُرَادُ بِـھَا وَجْہُ اللہِ۔آپؐنے مال اس طرح تقسیم کیا ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی مد نظر