تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 128
تفسیر۔بہت سے ترقی کرنے والے یکدم بڑھتے ہیں مگر آخر ٹھوکر کھاتے اور گر جاتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو ہٹلر، نیپولین، تیمور اور سکندر سب ایسے ہیں جو دنیا میں بڑھے اور انہوں نے ترقی کی مگر آخر ناکامی پر ان کا خاتمہ ہوا۔اسی طرح اور کئی بڑے بڑے لوگ دنیا میںگزرے ہیں جنہوں نے حیرت انگیز ترقیات کیںمگر آخر وہ گر گئے اور اُن کی تمام شہرت اور ناموری جاتی رہی۔پھر بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بڑے ذہین ہوتے ہیں مگر آخر میںپاگل ہو جاتے ہیں یا اپنی ذہانت کو کھو بیٹھتے ہیں۔مولوی محمد حسین صاحب آزاد لاہور میں رہتے تھے بڑے ذہین اورقابل آدمی تھے بہت بڑی علمیت کے مالک تھے مگر آخر میںان کے دماغ میںنقص واقعہ ہو گیا اور یہ حالت ہو گئی کہ وہ بازار میں سے گذرتے تو لوگ اکھٹے ہو جاتے اور جب ان سے کوئی بات کرتا تووہ اسے گالیاں دینے لگ جاتے۔عالم ہوتے ہیں مگر آخر میں جاہل ہو جاتے ہیں، ان کا حافظہ خراب ہو جاتا ہے اور وہ علم جو انہوں نے سیکھا ہوتا ہے سب بھول جاتا ہے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جومحبوب ہوتے ہیں مگر آخر وہ متروک ہو جاتے ہیں بلکہ جس قدر جسمانی محبوب ہوتے ہیں ان سب کا یہی حشر ہوتا ہے۔جوانی میں ہر شخص ان کی طرف دیکھتا ہے مگر جب ان کے دانت گرجاتے ہیں، جب ان کی کمر جھک جاتی ہے، جب ان کے چہرہ پر جھریا ں پڑجاتی ہیں۔تو بد صورت سے بدصورت انسان بھی ان کو دیکھ کر ہنستا ہے اور کہتا ہے یہ کیسا بد شکل انسان ہے۔فرانس کا ایک قصہ مشہور ہے۔ایک شخص نے فرانس کی ایک بڑھیا عورت کو دیکھا تو اس کی شکل و صورت اور رفتار کو دیکھ کر سخت کراہت کا اظہار کیا وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی اور اسے ایک تصویر دکھا کر کہا کہ جانتے ہو یہ کس کی تصویر ہے؟ وہ کہنے لگا ہاں میںجانتا ہوں یہ فلاں حسین عورت کی تصویر ہے میری ماں اس کی سہیلی تھی اور یہ عورت اتنی حسین اور خوبصورت تھی کہ سارا پیرس اس پر شید ا تھا۔جب وہ یہ بات کہہ چکا تو عورت کہنے لگی یہ میری ہی تصویر ہے۔تو کئی محبوب ہوتے ہیں مگر آخر میں مبغوض ہو جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ہمارے رسول ! تیرا یہ حال نہیں ہو گا۔تجھ کو جو ترقیات ملیں گی وہ ہر قدم پر بڑھتی چلی جائیںگی۔پہلے مدینہ کا گرد و نواح صاف ہوا، پھر مکہ فتح ہوا، پھر سارا عرب پھر شام اور عراق اور مصر فتح ہوئے۔غرض ہر قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔آنحضرت صلعم کی ہر دوسری گھڑی پہلی سے بہتر ممکن ہے کوئی کہے کہ مکہ تو آپؐکے ہاتھوں پر فتح ہوا تھا مگر عراق اور مصر وغیرہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کے بعد فتح ہوئے ہیں اس لئے شاید غلطی سے یہ نام لے لئے گئے ہیںمگر میںنے غلطی نہیںکی میںنے دیدہ و دانستہ شام اور عراق اور مصر وغیرہ کا نام لیا ہے۔اسی طرح ممکن ہے کوئی کہے کہ اگر لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى کے ثبوت میں عراق اور مصر وغیرہ کی فتوحات کو