تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 9

بے شک امن کی دعاکی تھی مگر اب ایک ایسا شخص پیدا ہو گیا ہے جس نے ہمارے عقائد کے خلاف باتیں پھیلانا شروع کر دی ہیں اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان باتوں کا ازالہ کریں خواہ اس کے نتیجہ میںمکہ کا امن برباد ہی کیوں نہ ہو جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک یہ تمہارے عقائد کے خلاف باتیں پھیلا رہا ہے اور تمہیں ان باتوں کو سن کر اشتعال پیدا ہوتا ہے مگر کیا ابراہیم ؑ کی دوسری دعا تمہیںیاد نہیں؟ اُس نے صرف یہی دعا نہیں کی تھی کہ مکہ میںامن قائم رہے بلکہ اُس نے یہ بھی دعا کی تھی کہ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔(البقرۃ :۱۳۰) جب اُس نے یہ دعا کی تھی تو کیا اس کے مدنظر یہ بات تھی یا نہیں کہ ایک دن آئے گا جبکہ تم لوگ خراب ہو جائوگے۔اگر تم نے خراب نہیں ہونا تھا تو کسی رسول کے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔لیکن جب اس نے ایک رسول کے آنے کی پیشگوئی کر دی تو اس پیشگوئی کے ساتھ ہی اُس نے یہ بھی فیصلہ کر دیا کہ میرے بعد میری قوم خراب ہو جائے گی اور اُس وقت ایک ایسے رسول کی ضرورت ہو گی جو اُن کے عقائد کی اصلاح کرے اور ان کی خرابیوں کو دور کرے۔اس قسم کی خرابیاں پیدا ہونے کے بغیر وہ رسول نہیں آسکتا تھا جو يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ کا مصداق ہوتا۔يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ مکہ والے آیات ِ الٰہیہ کو بھول جائیں گے يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ ایک زمانہ آئے گا جبکہ مکہ والے کتاب الٰہی کو بھول جائیں گے۔پھر کتاب کے ساتھ حکمت کے لفظ کا اضافہ بتاتا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جبکہ مکہ والوں کی عقلیں ماری جائیں گی اوروہ نہایت ہی احمقانہ عقائد میں مبتلا ہوجائیں گے۔اسی طرح يُزَكِّيْهِمْ کا لفظ بتاتا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ مکہ والے تقویٰ سے دور جا پڑیں گے اور ضرورت ہوگی کہ ایک رسول ان میں مبعوث ہو جو دوبارہ ان کو ہدایت پر قائم کرے۔پس فرمایا کہ مکہ کی بنیاد ایک وسیع نظام کے قیام کے لئے تھی جس میں روحانی، اعتقادی، سیاسی، تمدنی، عائلی، اقتصادی، علمی، بین الاقوامی، فکری اور اخلاقی تعلیمات اور ان کی حکمتوں اور ضرورتوں کا بیان ہو اور صرف خیال آرائی نہ ہو بلکہ عملی طور پر انسانی فکر اور عمل اور معاملہ کی اصلاح مد نظر ہو۔روحانی اور اعتقادی تعلیمات کا ذکر يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ میںآتا ہے۔سیاسی، تمدنی، عائلی، اقتصادی، علمی، بین الاقوامی فکری اور اخلاقی تعلیمات کا ذکر يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ میںآتا ہے ان تمام تعلیمات کی حکمتوںاورضرورتوں کا بیان تعلیم الحکمۃمیں آجاتا ہے اور یہ امر کہ صرف خیال آرائی نہ ہو بلکہ عملی طور پر انسانی فکر اور عمل اور معاملہ کی اصلاح مد نظر ہو اور یہ کام عملاً کیا جائے یہ يُزَكِّيْهِمْ میں آجاتا ہے۔غرض یہ ایک بہت بڑی پیشگوئی تھی اور بہت بڑا کام تھا جو دنیا میں ہونے والا تھا۔اس بڑے کام کے لئے