تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 8

اس سورۃ کی ترتیب کے متعلق تو کوئی مشکل پیش ہی نہیں آسکتی۔اس سے پہلی سورۃ میں بھی غرباء کی امداد کا ذکر آتا ہے اور اس کے بعد کی سورۃ میں بھی غرباء کے لئے اموال کو خرچ کرنے کی تلقین کی گئی ہے پس کم سے کم اِن مضامین کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سورۃ ما قبل اور ما بعد کی سورتوں سے نہایت گہرا تعلق رکھتی ہے۔اگر بحر محیط کے مصنف اتنی بات ہی بیان کر دیتے تو ایک معقول بات ہوتی مگر یہ کیا پھسپھسی بات ہے کہ پہلے چونکہ مکہ کی قسم کھائی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ آئو اب لگتے ہاتھوں ایک اونچی اور ایک نیچی چیز کی قسم بھی کھا لیں یہ محض مجبوری کی بات ہے چونکہ اُن کا ذہن اصل ترتیب کی طرف نہیں گیاانہوں نے یہ تاویل کر لی۔بے شک جہاں تک ایسوسی ایشن آف آئیڈیاز ’’یعنی بات سے بات پیدا ہو جانے‘‘ کا سوال ہے یہ بات صحیح ہے کہ جب انسان کو ایک خیال پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس قسم کا دوسرا خیال بھی پیدا ہو جاتا ہے جب انسان کہتا ہے کہ مجھے فلاں شخص نہیں ملا تو اُس کی بیوی اور اس کے بچوں کا بھی خیال آجاتاہے۔پھر اُن کے وطن کا بھی خیال آ جاتا ہے اور پھر اسی طرح یہ خیالات بڑھتے بڑھتے اور کئی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔پس ایساہوتا رہتا ہے او ر ہمیشہ ایک سے دوسرا خیال پیدا ہو جاتا ہے لیکن یہ قاعدہ انسانوں کی نسبت ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت۔انسان تو چیزوں کو بھولا ہوا ہوتاہے۔پس جب ایک چیز کا خیال کسی وجہ سے اسے آتا ہے تو اُس کے ساتھ تعلق رکھنے والی اشیاء بھی اسے یاد آنا شروع ہو جاتی ہیں مگر ہم اس جگہ کسی شاعر کے شعروں کے ربط پر غور نہیں کر رہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام پر غور کر رہے ہیں جو عالم الغیب ہے اور جو ’’ایسوسی ایشن آف آئیڈیاز‘‘ یا بات سے با ت یاد آجانے کے قاعدہ سے بالا اور پاک ہے۔اصل بات یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں خانہ کعبہ کی بنیاد کی غرض بیان کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ ہم اس شہر کی قسم کھاتے ہیں اور پھر اس شہر کو بنانے والے ابراہیم ؑ کی بھی قسم کھاتے ہیں ابراہیم ؑنے یہ شہر اس لئے بنایا تھا کہ یہاں امن قائم رہے اور لوگ اللہ تعالیٰ کے نام پر اپنی زندگیاں وقف کرتے رہیں مگر مکہ اب کیا ہے اب اُس کی یہ حالت ہے کہ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ( البلد:۳)اے محمد رسول اللہ ! تجھے اس میں تنگ کرنا حلا ل سمجھا جاتا ہے۔ابراہیم ؑ نے جب مکہ بنایا تو اس وقت اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی کہ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ (البقرۃ :۱۲۷)یعنی اے میرے رب! میں اس بستی کو امن کے لئے بساتا ہوں۔مگر اب یہ حالت ہے کہ ابراہیم ؑ کے اپنے بچہ یعنی محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مکہ میں ہرقسم کی تکالیف کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جس شخص نے دعا یہ کی تھی کہ خدایا یہاں باہر سے آنے والوں کو بھی امن میسر آجائے کیا اس کا کلیجہ یہ دیکھ کر ٹھنڈا ہو سکتا ہے کہ اُس کے اپنے بچہ کو اس شہر میں ہر قسم کے مصائب کا تختہ ء مشق بنایا جا رہا ہے اگر کہو کہ ابراہیمؑ نے