تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 86
نُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرٰى میں اس طرف اشارہ کہ قرآن مجید نے احکام کی حکمت بھی بیان کی ہے وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرٰى کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ ہم تجھے ایسی تعلیم دیں گے جس میں صرف احکام ہی نہیں ہوں گے بلکہ ان احکام کے ساتھ ساتھ ان کی حکمتیں بھی بیان ہوں گی اس لئے وہ احکام بجائے گراں گذرنے کے بالکل آسان معلوم ہوں گے۔اور لوگ ان کو چھوڑنا پسند نہیں کریں گے۔یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جب کسی حکم کی حکمت بیان کر دی جائے۔اور انسان پر یہ واضح ہو جائے کہ یہ حکم میرے فائد ہ کے لئے دیا گیا ہے تو جس شوق سے وہ حکمت معلوم کرنے کے بعد عمل کرتا ہے اس شوق سے وہ حکمت معلوم کئے بغیر عمل نہیں کر سکتا۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے۔کہ ہم نے ہر حکم کی حکمت بیان کر دی ہے اور اس وجہ سے اس تعلیم پر عمل لوگوں کے لئے نہایت آسان ہو گیا ہے۔غرض نُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرٰى کے تین معنے ہوئے یہ بھی کہ ہم نے اس قرآن کا حفظ کرنا آسان کر دیا ہے یہ بھی کہ ہم نے احکام کے ساتھ ان کی حکمتیں بھی بیان کر دی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کے لئے عمل آسان ہو گیا ہے اور یہ بھی کہ ہم نے ایسی تعلیم نازل کی ہے جس میں ہر فطرت کا لحاظ رکھا گیا ہے اور ضرورت کے مطابق اس میں لچک پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ شریعت اسلامیہ کے تمام احکام کو دیکھ لو اسلام نے کسی ایک حکم کے متعلق بھی یہ نہیں کہا کہ اس میں حالات کے لحاظ سے کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔نماز کے متعلق اسلام نے نہایت ہی تاکیدی احکام دیئے ہیں۔لیکن اگر کوئی شخص بے ہوش ہو جائے تو اس کے لئے کوئی حکم نہیں رہتا۔اگر کوئی شخص پاگل ہو جائے تو اس کے متعلق یہ حکم نہیں ہو گا کہ وہ بھی نماز پڑھے۔بلکہ اگر کوئی شخص نماز پڑھتے پڑھتے پاگل ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ جب تک پاگل رہے ایسا ہی سمجھا جائے گا جیسے وہ نماز پڑھتا رہا ہے۔اور اسے وہی ثواب ملے گا جو نماز پڑھنے والوں کو ملتا ہے۔غرض کوئی مشکل ایسی نہیں جس کا علاج اسلام میں موجود نہ ہو۔بے شک اسلام نے یہ کہا ہے کہ نمازکے لئے مسجد میں آؤ لیکن اگر مسجد نہ ہو تو اسلام کہتا ہے گھر پر ہی پڑھ لو۔اگر کوئی خاص جگہ عبادت کے لئے نہیں ملتی تو مٹی پر ہی کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر لو۔وضو نہیں کر سکتے تو تیمّم کر لو۔پھر امام کے متعلق کوئی خاص شرائط نہیں سوائے اس کے کہ وہ متقی ہو۔مگر عیسائیوں میں صرف ایک دن کی عبادت کے متعلق ہی کئی قسم کی شرائط پائی جاتی ہیں مثلاً عیسائیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ گِرجا میں جائیں۔یہ ضروری ہے کہ پادری آئے جو انہیں عبادت کرائے۔اور پھر ضروری ہے کہ پادری ایسا ہو جو ڈگری یافتہ ہو اور جس نے کالے رنگ کا کوٹ پہنا ہوا ہو۔اب بتاؤ کالے رنگ کے کوٹ کا عبادت سے کیا تعلق ہے یا کسی ڈگری کے ہونے یا نہ ہونے کا عبادت کے ساتھ کیا جوڑ ہے۔لیکن اسی قسم کی پابندیاں ہیں جو عیسائیت نے عبادت پر عائد کی ہوئی ہیں۔اس کے مقابلہ میں