تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 2
ہوگا۔میرے نزدیک سورہ طارق ایک عالمِ برزخ کے طور پر درمیان میں آئی ہے جس میں پہلے مضمون کو بدل کر ایک دوسری طرف پھیرا جائے گا۔اس سورۃاور پچھلی تین سورتوں میں سَـمَاء کے لفظ کو دہرایا گیا ہے لیکن ہر جگہ اس کے ساتھ ایک اور چیز کو بیان کیا گیا ہے پہلے اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ کہا تھا پھر اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ فرمایا۔گویا سَـمَاء کا لفظ تو وہی ہے مگر پہلی دفعہ اس کے ساتھ اِنْفِطَار کا ذکر کیا پھر سَـمَاء کے لفظ کے ساتھ اِنْشِقَاق کا ذکر کیا۔پھر تیسری سورۃ میں سَـمَاء کے لفظ کے ساتھ ذَاتِ الْبُـرُوْجِ وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ کا ذکر کیا۔اور یہاں سَـمَاء کے ساتھ طارق کا لفظ بڑھایا گیا ہے۔دوسرافرق یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں سماء کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے اور دوسری سورتوں میں سَـمَاء کو بطور شہادت پیش کیا گیا ہے۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں) وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ۰۰۲ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ۰۰۳ (مجھے) قسم ہے آسمان کی اور صبح کے ستارے کی اور کس چیز نے تجھے علم دیا ہے کہ صبح کا ستارہ کیا ہے۔حلّ لُغات۔اَلطَّارِقُ۔طَارِقٌ کے عربی زبان میں تین معنے ہوتے ہیں (۱) اَلْآتِیْ لَیْلًا یعنی رات کو آنے والا شخص (۲) اَلنَّجْمُ الَّذِیْ یُقَالُ لَہٗ کَوْکَبُ الصُّبْحِ وہ ستارہ جسے کوکب صبح کہتے ہیں اور جو صبح کے طلوع ہونے کی خبر دیتا ہے (۳) اَلضَّارِبُ بِالْـحَصٰی عَلٰی سَبِیْلِ التَّکَھُّنِ علم نجوم رکھنے والا شخص جو کنکریاں پھینک کر نتائج اخذ کرے۔(اقرب ) تفسیر۔طَارِقٌ کے تین معنی لغت میں ہیں جیسا کہ حل لغات میں بتایا گیا ہے سوال یہ ہے کہ کیا یہ تینوں معنی اس جگہ چسپاں ہوتے ہیں یا ان میں سے کوئی ایک؟ اس بارہ میں یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ ہم بعض جگہ قرآن کریم کے ایک لفظ کے پانچ پانچ چھ چھ معنے کر جاتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ رہتا ہے کہ شائد زبردستی معنے کر دیئے جاتے ہیں۔ہمارے طریق کی اس آیت سے اور ایسے ہی بعض اور آیات سے تصدیق نکلتی ہے جب لغت میں ایک لفظ کے ایک سے زائد معنی ہوں تو