تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 54
جو انجن بنانے سے پہلے اس کی طاقت کا اندازہ کرے اور اس کے مطابق انجن بنائے۔جب وہ انجن بنا لے گا تو فوراً کہہ دے گا کہ یہ انجن اتنا وزن کھینچ سکتا ہے۔لیکن اگر کوئی اناڑی انجن بنانے لگے تو وہ بے شک اندازہ نہیں لگا سکے گا اور جب انجن بن جائے گا تو کہہ دے گا دیکھ لو یہ کتنا وزن کھینچ سکتا ہے۔جتنا وزن کھینچ لے اتنی ہی اس کی طاقت سمجھ لیں۔بہرحال تجربہ کار کسی چیز کے بنانے سے پہلے اس کے متعلق اندازہ لگایا کرتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ بعد میں اندازہ لگائے یا مثلاً ایک تجربہ کار مستری چارپائی بنانا چاہتا ہے تو وہ چارپائی بنانے سے پہلے یہ اندازہ لگائے گا کہ مثلًا میں جس شخص کے لئے چارپائی بنانے لگا ہوں سات فٹ کا ہے میں ساڑھے سات فٹ چارپائی بناؤں۔کچھ چارپائی سرہانے کی طرف چلی جائے گی اور کچھ پائنتی کی طرف اور اس طرح سات فٹ کے آدمی کے لئے یہ پوری ہو جائے گی۔لیکن اگر کوئی اناڑی چارپائی بنائے گا تو وہ اس قسم کا اندازہ نہیں کرے گا جیسی چارپائی بھی بن جائے گی بنا کر دے دے گا خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی۔اگر چھوٹی بنی تو کہہ دے گا یہ تو خراب ہو گئی ہے اب اور چارپائی بنوا لو۔بہرحال یہ صنّاع کا طریق نہیں ہوتا کہ وہ بنانے کے بعد کسی چیز کے متعلق اندازہ کرے لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے خَلَقَ فَسَوّٰى کو پہلے رکھا ہے اور قَدَّرَ فَهَدٰى کو بعد میں رکھا ہے۔اس میں اسی طرف اشارہ ہے کہ یہاں ان بالقوہ خاصیتوں کا ذکر نہیں کیا گیا جو انسان میں پیدا کی گئی تھیں بلکہ اس کی بالفعل طاقتوں کے ظہور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جس جس وقت انسان کا جتنا نشوونما ہو چکا ہوتا ہے اور جس حد تک وہ اپنے جذبات کو خدائی قانون کے مطابق صحیح طور پر لا سکتا ہے اتنی تعلیم ہم اس کے لئے نازل کر دیتے ہیںیا جتنی خرابیاں پیدا ہوں ان کا علاج کر دیتے ہیں۔چنانچہ موسٰی کی کتاب موسوی لوگوں کےلئے کامل تھی۔عیسٰیؑ کی تعلیمات عیسوی لوگوں کے لئے کامل تھیں۔لیکن اُمّت محمدیہ کے لئے وہ تعلیمات کامل نہیں تھیں کیونکہ اس وقت دنیا اور زیادہ ترقی کر چکی تھی اور ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وقتی کامل تعلیم کی بجائے کُلّی کامل تعلیم نازل ہوتی۔اب اس کی مثال اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ دنیا کی عام پیدائش سے دیتا ہے اور لوگوں کو بتاتا ہے کہ صرف روحانی عالم میں ہی نہیں بلکہ اس مادی دنیا میں بھی ہمارا یہی قانون جاری ہے۔وَ الَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰىۙ۰۰۵ فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ۰۰۶ اور جس نے (زمین سے) چارہ نکالا۔پھر اسے سیاہ کوڑا کرکٹ بنا دیا۔حلّ لغاُت۔مَرْعٰی۔مَرْعٰی اس گھاس پھونس کو کہتے ہیں جس کو جانور کھاتا ہے۔اور مَرْعٰی چراگاہ کو