تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 53

طے کرتے کرتے اس مقام تک پہنچ گیا کہ قولِ فصل کا نازل ہونا ضروری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے دیکھ لیا کہ اب انسان میں اس کو برداشت کرنے کی استعداد پیدا ہوگئی ہے تو اس نے قولِ فـصل نازل کر دیا پہلے لوگوں کے لئے قولِ فصل کا نازل کرنا ظلم تھا اور بعد میں آنے والوں کے لئے قولِ فصل کو روک لینا ظلم تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ کیا درست کیا۔اس کے کسی فعل پر اعتراض کرنا نادانی اور حماقت کا ارتکاب کرنا ہے۔غرض اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ پر جو اعتراضات پیدا ہوتے تھے ان کا جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سورۃ میں دیا گیا ہے اور الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى اور وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى میں یہ بتایا گیا ہے کہ الٰہی سنّت یہی ہے کہ بگاڑ ہوتا ہے اور وہ اس کی اصلاح کرتا ہے اور الٰہی قانون سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے انسان کو معتدل قویٰ عطا فرمائے ہیں۔جب اس نے انسان کو معتدل قویٰ عطا فرمائے ہیں تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی طرف سے ایسی تعلیم نہ آئے جو معتدل ہو یعنی ہر قسم کی قوتوں کا اس میں جواب ہو۔جب تک ایسا نہ ہو اس وقت تک شریعت کامل نہیں کہلا سکتی۔پس ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی شریعت آتی جو ہر قسم کی فطرت کا اپنے اندر جواب رکھتی۔پھر یہ بھی ضروری تھا کہ جب بھی بنی نوع انسان کے اندر بگاڑ کے سامان پیدا ہوتے اس کی طرف سے اصلاح کے سامان پیدا کر دیئے جاتے۔ایک طرف انسان میں بگاڑ کی قوت کا موجود ہونا اس بات کو چاہتا ہے کہ متعدد بار ہدایتیں آئیں اور دوسری طرف اس کا انسان کو معتدل القویٰ اور کامل القویٰ بنانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کسی نہ کسی وقت ایسی تعلیم بھی آئے جو اپنی ذات میں کامل ہواور انسانی فطرت کے تمام جذبات کو اس میں ملحوظ رکھا گیا ہو۔یہ دونوں معانی الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى میں بیان کئے گئے تھے۔اور پھر انہی معانی کی تشریح وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى میں کر دی گئی کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ انسان کی طاقتوں کا اندازہ لگاتا اور پھر اس اندازہ کے مطابق ہدایت نازل کرتا ہے۔میںبتا چکا ہوں کہ یہاں پیدائشی طاقتیں یا بالقوہ خاصیتیں مراد نہیں اس لئے کہ وہ پیدائش سے پہلے بنائی جاتی ہیں اور یہاں خَلَقَ کے بعد قَدَّرَ کا ذکر ہے۔پس یہاں جس تقدیر کا ذکر ہے اس سے مراد انسانی قویٰ کا بالفعل ظہور ہے۔یعنی جس جس رنگ میں انسانی طاقتیں ظہور کرتی گئیں اسی رنگ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آتی گئی۔پس قَدَّرَ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اندازہ لگایا کہ انسان میں بالقوہ کتنی بڑھنے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خلق پہلے ہو اور یہ خاصیتیں بعد میں پیدا کی جائیں۔ہم جب ایک انجن بنانے لگتے ہیں تو اس کے بنانے سے پہلے یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ اس نے اتنے وزن کو کھینچنا ہے اور جب ہم یہ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ اس انجن نے اتنا وزن کھینچنا ہے تو اس کے بعد اتنی طاقت کا انجن بنا دیتے ہیں۔اچھا صنّاع وہی ہوتا ہے