تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 50

سے یہ کب امید کی جا سکتی ہے کہ وہ بے محل تعلیم کا نزول کرے۔قَدَّرَ فَهَدٰى میں اللہ تعالیٰ نے یہی مضمون بیان کیا ہے کہ کامل تعلیم وہی ہو گی جو ماحول کے مطابق ہو۔اگر نماز کے متعلق صرف یہی حکم دیا جاتا کہ ہر شخص کو کھڑے ہوکر پڑھنی چاہیے تو ایک بیمار جو کھڑا نہ ہو سکتا وہ کیا کرتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی اجازت دے دی کہ اگر کوئی بیمار ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھ لے۔اگر بیٹھ کر بھی نہیں پڑھ سکتا تو لیٹ کر نماز پڑھ لے۔گویا ماحول کو مدنظر رکھ کر اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے یہ نہیں ہوا کہ اس نے انسان کے مادی ماحول کو نظر انداز کر دیا ہو۔پس کامل تعلیم وہی ہوسکتی ہے جو قَدَّرَ فَهَدٰى کے مطابق ہو۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا حکم تو دے دیا مگر ساتھ ہی کہہ دیا کہ یہ حکم ہرشخص کے لئے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لئے ہے جن کے پاس اتنا روپیہ ہو۔اگر یہ استثنیٰ نہ کیا جاتا تو لاکھوں لوگ اس تعلیم پر عمل نہ کر سکتے اور گناہ گار بن جاتے۔لیکن باقی مذاہب کی تعلیم میں اس ماحول کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔مثلاً آریہ سماج کی یہ تعلیم ہے کہ مردہ جلانے کے لئے صندل، گھی، زعفران اور کئی قسم کی چیزیں اکٹھی کرنی چاہئیں۔چنانچہ پنڈت دیانند صاحب ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ میں لکھتے ہیں:۔’’جسم کے وزن کے برابر گھی لینا چاہیے اور فی سیر گھی میں ایک رتی کستوری اور ایک ماشہ کیسر ڈالنا چاہیے۔کم از کم آدھ من صندل ڈالے زیادہ چاہے جس قدر ہو۔اگر، تگر، کافور وغیرہ اور پلاش (ڈھاک) وغیرہ کی لکڑیاں ویدی میں جمانی چاہئیں۔اور اس پر مردہ رکھ کر چاروں طرف ویدی کے اوپر منہ کی طرف سے ایک ایک بالشت تک بھر کر (مردہ کو) گھی وغیرہ کی آہوتی دے کر جلانا چاہیے۔‘‘ (ستیارتھ پرکاش باب ۱۳ صفحہ ۶۴۲) میں نے ایک دفعہ اندازہ لگایا تو یہ چیزیں جن کو مردہ جلانے کے لئے ضروری قرار دیا گیا تھا قریبًا چھ سو روپیہ کی بن گئیں۔حالانکہ کئی آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اپنے گھر کی تمام چیزوں کو بیچ ڈالیں تب بھی وہ چھ سو روپیہ اکٹھا نہیں کر سکتے۔اور کئی لوگ تو ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا کوئی مکان ہی نہیں ہوتا وہ کسی کی ڈیوڑھی پر دربان کے طور پر بیٹھے رہتے ہیںنہ ان کی کوئی زمین ہوتی ہے اور نہ جائیداد۔وہ لوگ اتنا گھی، صندل، کستوری اور زعفران کہاں سے لا سکتے ہیں۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ آریہ سماج کی یہ تعلیم قَدَّرَ فَهَدٰى کے مطابق نہیں۔وہ انسانی ماحول کو نظر انداز کر دیتی ہے حالانکہ ہر انسان اپنے ماحول کے مطابق ہی چل سکتا ہے۔ماحول سے باہر نکل کر عمل کرنا اس کے لئے ناممکن ہوتا ہے۔پس فرماتا ہے ہم نے انسان کو ماحول والا بنایا ہے اور اس کے اردگرد کئی قسم کی دیواریں کھڑی کی ہوئی ہیں۔پس ہم نے جو تعلیم دی ہے اس میں ان تمام حدبندیوں کو مدنظر رکھ لیا گیا ہے۔اگر یوں کہا جاتا کہ ہر انسان دس روپیہ چندہ دے تو لاکھوں لوگ کافر ہو جاتے۔کیونکہ ان کے پاس اتنا روپیہ ہی نہ ہوتا