تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 49

اس آیت کے ایک اور معنے بھی ہیں اور وہ یہ کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے انسان کو معتدل القویٰ اور نقائص سے پاک بنایا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی اس نے انسان کے لئے کئی قسم کی حد بندیاں بھی قائم کر دی ہیں۔یہ نہیں کہ وہ ان قوتوں کو بے تحاشا استعمال کرنا شروع کر دے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ پانی پی سکتا ہے خواہ زید کا ہو، بکر کا ہو، عمرو کا ہو، خالد کا ہو، مگر اللہ تعالیٰ نے ایک حد بندی قائم کر دی کہ اپنا پانی پیو دوسرے کا پانی اس کی اجازت کے بغیر نہ پیو۔ہمارے ہاں چونکہ پانی کثر ت کے ساتھ ہوتا ہے اس لئے لوگ شائد پانی کی مـثال کو پورے طور پر نہ سمجھ سکیں لیکن عرب کے رہنے والے اس مثال کو خوب سمجھ سکتے ہیں۔کیونکہ وہاں دس دس بارہ بارہ میل سے مشکیزوں میں پانی بھر کر آتا ہے۔اس لئے وہاں پانی کو جو قیمت حاصل ہے ہمارے ملک میں نہیں۔یا مثلاً اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ گوشت کھاؤ۔مگر ساتھ ہی احکام نازل کر دیئے کہ خنزیر کا گوشت نہ کھاؤ۔مردے کا گوشت نہ کھاؤ۔جس جانور کو ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ۔گویا کئی قسم کی حد بندیوں میں انسان کو جکڑ دیا گیا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ جو چاہے کرے یا جو چاہے استعمال کرے۔پھر ایک تقدیر حالات کی ہوتی ہے۔یوں تو انسان جو چاہے کر سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ نے انسان کو ایسے حالات میں پیدا کیا ہے کہ وہ جو چاہے کر نہیں سکتا۔ہر ایک شخص اگر لاکھ روپیہ دینا چاہے تو وہ دے سکتا ہے مگر ہر شخص کے پاس اس قدر روپیہ ہوتا ہی نہیں کہ وہ اپنی خواہش کو پورا کر سکے۔خیالی طور پر تو ہر شخص لاکھ بلکہ کروڑ روپیہ بھی دے سکتا ہے مگر جہاں تک عملی طور پر لاکھ یا کروڑ روپیہ دینے کا سوال ہے ہر شخص اتنا روپیہ نہیں دے سکتا۔اسی مضمون کے مطابق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہرانسان کے اردگرد ہم نے ایک حدبندی قائم کر دی ہے جس میں سے وہ باہر نہیں نکل سکتا۔یہی وہ حد بندی ہے جسے ماحول کہتے ہیں۔گویا قَدَّرَ فَهَدٰى سے اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان اپنے ماحول کے مطابق چلتا ہے اس نے صرف قویٰ ہی پیدا نہیں کئے بلکہ ان قویٰ کے ظہور کے لئے ایک ماحول بھی پیدا کیا ہے۔اس ماحول کو دیکھو اس کے مطابق ہی قویٰ ظاہر ہو سکتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے جب بھی ہدایت نازل کی ہے ماحول کو مدنظر رکھا ہے۔یہ ماحول مادی بھی ہوتا ہے اور دینی بھی۔مادی ماحول تو حیوان اور انسان سب کے لئے ہے مگر دینی ماحول یعنی شریعت صرف انسان کے لئے ہے اور پھر شریعت بھی مادی ماحول کے مطابق ہوتی ہے۔کبھی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا حکم ہے، کبھی بیٹھ کر اور کبھی لیٹ کر۔یہ سب ماحول کا لحاظ ہے۔پس ماحول اگر کامل تعلیم کو چاہے گا تو کامل تعلیم آئے گی اور اگر ماحول کامل تعلیم کو نہ چاہے گا تو کامل تعلیم نہ آئے گی۔اس کی وجہ سے اعتراض کرنا قانونِ قدرت پر اعتراض کرنا ہے۔اگر ماں بچہ کو کباب نہیں کھلاتی بلکہ دودھ پلاتی ہے تو ربّ الاعلیٰ