تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 48
طرف اشارہ ہے اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے ازالۂ مرض کی طرف اشارہ ہے۔اس امر کا ثبوت کہ جو معنے میں نے کئے ہیں وہی صحیح ہیں اس سے بھی ملتا ہے کہ یہاں خَلَقَ فَسَوّٰى کے بعد قَدَّرَ فَهَدٰى کا ذکر کیا گیا ہے۔اگر یہ معنے درست نہ ہوتے تو خَلَقَ سے قَدَّرَ کو پہلے رکھنا چاہیے تھا۔کیونکہ اندازہ پہلے ہوتا ہے اور عمل بعد میں۔سو چونکہ خَلَقَ کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اس کے بعد خَلَقَ کا اندازہ لگانے کے معنے ہی کوئی نہیں بنتے۔جسمانی یا روحانی قوتوں کا اندازہ تو خَلَقَ سے پہلے ہونا چاہیے تھا نہ کہ بعد میں۔پیدائش کے بعد جو اندازہ لگایا جائے وہ تو قوتوں کے موقع اور محل پر استعمال کا اندازہ ہی ہو سکتا ہے۔یعنی انسان جس وقت جس قدر قویٰ کا اظہار بالفعل کر سکتا تھا اس کا اندازہ کر کے اللہ تعالیٰ نے اس کے مطابق ہدایت نازل کر دی یا جس قدر بدی کا اظہار کرنے کی اس میں قابلیت پیدا ہوئی اس کا علاج اس نے کیا۔جب بدیاں پوری طرح ظاہر ہو گئیں اور نیکیوں کے کامل طور پر ظاہر کرنے کی قابلیت اس میں پیدا ہو گئی تو پھر اللہ تعالیٰ نے کامل تعلیم بھجوا دی۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہاں تقدیر پیدائش کا ذکر ہے انہیں غور کرنا چاہیے کہ تقدیر پیدائش خلق سے پہلے ہوتی ہے کہ بعد میں۔اگر ایک شخص د۲و چھٹانک کی روٹی پکانا چاہے تو وہ آٹا گوندھتے وقت ہی یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں نے د۲و چھٹانک کی روٹی پکانی ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ وہ روٹی پکا کر فیصلہ کرے کہ میں نے دو چھٹانک کی روٹی پکانی ہے یا ڈیڑھ چھٹانک کی۔اس قسم کا اندازہ ہمیشہ پہلے ہوتا ہے نہ کے بعد میں۔اسی طرح اگر یہاں تقدیر سے مراد تقدیرِ پیدائش ہوتی تو خلق سے پہلے اس کا ذکر ہونا چاہیے تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا بلکہ خَلَقَ فَسَوّٰى کے بعد یہ فرمایا کہ قَدَّرَ فَهَدٰى پس یہ تقدیر وہ نہیں جو پیدائش سے پہلے ہوتی ہے بلکہ اس تقدیر سے دوسری قسم کی تقدیر مراد ہے۔ایک تقدیر قوتوں کی ہوتی ہے اور ایک تقدیر اظہارِ قوت کی ہوتی ہے۔قوۃ کی تقدیر خواہ وہ روحانیات سے تعلق رکھتی ہو یا جسمانیات سے ہمیشہ خلق سے پہلے ہوتی ہے لیکن اظہارِ قوۃ کے متعلق تقدیر خلق کے بعد ہر وقت ہو سکتی ہے۔پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اظہار قویٰ کے متعلق اپنی تقدیر کا ہی ذکر کیا ہے۔اور بتایا ہے کہ انسان جس وقت جس قدر قویٰ کا بالفعل اظہار کر سکتا تھا اس کا اندازہ کر کے اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے یہی حکمت ہے جس کے ماتحت ایک وقت تو صرف وقتی کامل تعلیمات دی گئیں اور دوسرے وقت اسے کُلّی کامل تعلیم دی گئی۔وقتی کامل تعلیم اس وقت دی گئی جب انسان ابھی قوتوں کا پورا اظہار بالفعل نہیں کر سکتا تھا اور ارتقائی منازل کو طے کر رہا تھا یا ابھی ہر قسم کی بدیوں کا پورا اظہار نہیں ہوا تھا۔اور کُلّی کامل تعلیم اس وقت دی گئی جب ایک طرف بدیاں پورے طور پر ظاہر ہو گئیں اور دوسری طرف نیکیوں کے پورے طور پر ظاہر کرنے کی قابلیت انسان میں پیدا ہو گئی۔