تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 1

سُوْرَۃ ُ الطَّارِقِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ طارق۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ سَبْعَ عَشْـرَۃَ اٰیَۃً اور بسم اللہ کے علاوہ اس کی سترہ آیتیں ہیں۔نزول کا وقت۔سورۂ طارق مکی ہے یہ سورۃ مکی ہے بعض راوی کہتے ہیں کہ جب ایک نجم ثاقب کے گرنے سے ابو جہل ڈر گیا تو اس وقت اس سورۃ کی پہلی تین آیات نازل ہوئیں۔نولڈکے اور میور کا خیال ہے کہ یہ سورۃ نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہے مگر پادری ویری لکھتے ہیں کہ چونکہ اس میںکفّار کے نقصان دہ منصوبوں کا بھی ذکر ہے اس لئے ۱۱ سے ۱۷ تک کی آیات ؁۴بعد زمانہ نبوت کی ہیں۔(A Comprehensive Commentary on The Quran by Wherry vol:4 Page:235) میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ ایسے استدلال محض دشمنی کی وجہ سے ہیں ورنہ قرآن کریم پیشگوئیوں سے بھرا ہوا ہے کیوں اسے پیشگوئی نہ سمجھا جائے۔دوسرے ایسے باریک فرق سے ہمارا کوئی نقصان بھی نہیں۔کیونکہ اگر یہ سمجھا جائے کہ دشمنی کے اظہار کے بعد یہ آیت نازل ہوئی ہے تو یہ تو ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم نے اس ابتدائی زمانہ میں ہی دشمن کی تباہی کی خبر دے دی تھی۔پس اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا تو ویریؔ صاحب کو بھی انکار نہیں۔سورۂ طارق کا تعلق پہلی سورتوں سے یہ سورۃ اس سلسلہ مضمون کی جو بیان ہوتا آ رہا ہے چوتھی سورۃ ہے اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ اس سلسلہ کی پہلی سورۃ تھی اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ دوسری سورۃ تھی اور وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ تیسری سورۃ تھی اور وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ یعنی یہ سورۃ جو زیر بحث ہے اس سلسلہ کی چوتھی سورۃ ہے سورۃ تطفیف کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ اس میں اس مضمون کے ایک پہلو کو بیان کیا گیا ہے جو اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ میں بیان کیا گیا تھا۔چنانچہ میرے اس دعویٰ کی دلیل یہ ہے کہ سورۃ تطفیف کے بعد دو سورتیں سَـمَاء کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں مگر سورۃ تطفیف کے شروع میں وَالسَّمَآءِ نہیں کیونکہ وہ پہلی سورۃ کے سلسلہ میں ہی بیان کی گئی ہے۔غرض یہ اس سلسلہ کی آخری سورۃ ہے اس کے بعد وَالسَّمَآءِ کا لفظ نہیں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى سے نئی سورۃ کا مضمون شروع