تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 37
ہوتا جو اس تمام کارخانۂ عالم کو چلا رہی ہے۔ان کا ذہن ہَڑ کی طرف تو چلا جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے شافی ہونے کی طرف ان کا ذہن نہیں جاتا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے اپنی اس صفت کا بھی براہِ راست نمونہ دکھایا۔خیبر کی فتح کا سوال پیدا ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو بلایا اور لشکرِ اسلامی کا عَلم آپؓکے سپرد کرنا چاہا مگر حضرت علیؓ کی آنکھیں دُکھ رہی تھیں۔اور شدّتِ تکلیف کی وجہ سے وہ سوجھی ہوئی تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو اس حالت میں دیکھا تو آپؐنے علیؓ سے فرمایا ادھر آؤ۔وہ سامنے آئے تو آپ نے اپنا لعابِ دہن حضرت علیؓ کی آنکھ پر لگایا اور ان کی آنکھیں اسی وقت اچھی ہوگئیں (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زیر عنوان ذکر المسیـر الی خیبـر) آپؐجانتے تھے کہ خدا نے کہا ہے خیبر علیؓ نے فتح کرنا ہے۔اور جب کہ خدائی فیصلہ یہ ہے تو اس کی آنکھ بیمار نہیں رہ سکتی۔آپؐنے لعاب دہن لگایا اور آنکھ فوراً اچھی ہوگئی۔اب جس شخص کے ساتھ یہ معاملہ گذرا ہو وہی بتا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ شافی ہے دوسرا اگر کچھ کہے گا تو یہی کہ میں نے سنا ہے کہ خدا شافی ہے مگر مجھے اس کی اس صفت کے متعلق کوئی مشاہدہ حاصل نہیں۔سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى سے یہ مراد کہ رب کی اعلیٰ شان کو ظاہر کر غرض اللہ تعالیٰ کی تمام صفات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاواسطہ دیکھیں مگر لوگوں نے ان صفات کو بالواسطہ دیکھا اس لئے لوگ ان عیوب کو دور نہیں کر سکتے تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کئے جاتے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ذاتی مشاہدہ کی بنا پر ان عیوب کو بڑی عمدگی اور خوبی کے ساتھ دور کر سکتے تھے اس لئے فرمایا سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے رب کے نام کی تسبیح کر اس لئے کہ تیرے لئے اس کی ربوبیت اعلیٰ ظاہر ہوتی ہے مگر اور لوگوں کے لئے ربوبیت ادنیٰ ظاہر ہوتی ہے اس لئے لوگوں نے اس کی صفات کا نقش نہایت دھندلی صورت میں دیکھا ہے مگر تیرے لئے تو ہم اپنی تمام صفات کے ساتھ ظاہر ہو گئے ہیں اور تو نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ ہم میں کوئی نقص نہیں۔اس لئے بنی نوع انسان کی طرف سے جو اعتراضات کئے جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی تعلیم میں یہ نقائص ہیں۔اس کی صفات میں یہ عیوب ہیں۔ان کی پورے زور سے تردید کر۔کوئی کہتا ہے بتوں کو خدائی دے دی گئی ہے۔کوئی کہتا ہے خدا کا بیٹا ہے۔کوئی کہتا ہے فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں۔کوئی کہتا ہے وہ کلام نہیں کرتا۔کوئی کہتا ہے کائناتِ عالم کے چلانے میں صرف اسباب کا دخل ہے خدا تعالیٰ کا ہاتھ اس میں کوئی کام نہیں کر رہا۔غرض کئی قسم کے اعتراضات ہیں جو لوگوں کی طرف سے کئے جاتے ہیں۔اور وہ اس قسم کے اعتراضات میں اس لحاظ سے معذور بھی سمجھے جا سکتے ہیں کہ انہوں نے ہم کو دیکھا نہیں۔ہماری صفات