تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 340
نہیں جانتا کہ اس نے یہ ڈھیروں ڈھیر مال کیوں خرچ کیا ہے۔یا کیا بندے نہیں جانتے کہ اس نے اتنا روپیہ کیوں صرف کیا ہے۔فرماتا ہے تو نے بےشک اپنا مال خرچ کیا ہے۔مگر سوال تو یہ ہے کہ تو نے اپنا مال کس جگہ پر خرچ کیا ہے۔ہم مان لیتے ہیں کہ تم نے اپنا سارا مال لٹا دیا ہے۔لیکن اگر تم ان لوگوں میں سے ہو جو تَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا۔وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا کے مصداق ہیں تو بتاؤ تم اللہ تعالیٰ کے حضور کون سی فضیلت پا سکتے ہو۔یا کم از کم بنی نوع انسان کی نگاہ میں ہی تمہیں کون سا مقام حاصل ہو سکتا ہے۔نہ خدا تم کو فضیلت دے گا اور نہ بندے تمہارا ادب کریں گے کیونکہ خدا بھی جانتا ہے اور اس کے بندے بھی جانتے ہیں کہ تم نے محض نام آوری کے لئے، محض جاہ طلبی اور شہرت کے حصول کے لئے یہ سب کچھ کیا۔تمہیں بعض دفعہ جوش آ جاتا تو تم سو سو اونٹ ایک ایک دن میں ذبح کر دیتے۔مگر سوال یہ ہے کہ ان اونٹوں کے ذبح کرنے کا کیا فائدہ تھا جب کہ یتیم بھوکے مرتے رہے اور تم نے انہیں کھانا نہ کھلایا۔مساکین ننگے پھرتے رہے اور تم نے انہیں کپڑا نہ پہنایا۔حاجت مند پریشان رہے اور تم نے ان کی حاجات کو پورا نہ کیا۔اگر تمہارے دل میں بنی نوع انسان کی کچھ بھی محبت ہوتی اور اگر ان کے فقر و فاقہ کی مصیبت تمہارے دل کو کچھ بھی متاثر کرتی تو بجائے اس کے کہ ایک ایک دن میں تم سو سو اونٹ ذبح کر دیتے۔تم ان کی امداد کے لئے یہ طریق اختیار کرتے کہ ایک اونٹ ذبح کیا اور ان کو کھلا دیا۔پھر کوئی اونٹ ذبح کیا اور ان کو کھلا دیا۔اس طرح تم تین بلکہ چھ ماہ تک اپنی اس امداد کے سلسلہ کو ممتد کر دیتے۔مگر تمہارے مدّ ِنظر تو یہ بات تھی کہ لوگوں میں تمہاری شہرت ہو۔لوگ دور دور سے اونٹوں پر سوار ہو کر تمہاری دعوت میں شریک ہونے کے لئے آئیں اور جب لوگ ان سے پوچھیں کہ آج تم کہاں جا رہے ہو تو وہ بتائیں کہ فلاں امیر کے ہاںدعوت ہے۔اس نے آج سو اونٹ ذبح کئے ہیں۔اس دعوت میں شمولیت کے لئے ہم جا رہے ہیں۔جب تمہارے مدّ ِنظر محض جاہ طلبی اور لوگوں میں اپنی عزت کو بڑھانا اور دور دور تک مشہور ہونا تھا تو بتاؤ خدا تمہاری کیوں قدر کرے۔یا بنی نوع انسان تمہارا کیوں احترام کریں۔کیا لوگ اندھے ہیں کہ وہ اتنی موٹی بات کو بھی نہیں سمجھ سکتے کہ تم نے جو کچھ کیا ہے ان کی خاطر نہیں کیا بلکہ اپنے نفسوں کی خاطر کیا ہے۔یا کیا خدا تمہارے دلوں کی نیتوں سے آگاہ نہیں اور وہ نہیں جانتا کہ تمہارے پیش نظر کیا مقصد تھا۔پس فرمایا اَيَحْسَبُ اَنْ لَّمْ يَرَهٗۤ اَحَدٌ کیا یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ انہیں نہ خدا دیکھتا ہے اور نہ اس کے بندے دیکھتے ہیں۔وہ مال تو عزت طلبی کے لئے خرچ کر رہا ہے۔شہر ت کے حصول کے لئے برباد کر رہا ہے اور توقع یہ رکھتا ہے کہ لوگ مجھے اپنا محسن سمجھیں۔آخر لوگ اسے کیوں سمجھیں کیا وہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہےکہ وہ جو کچھ کر رہا ہے دنیا کے لئے کر رہا ہے۔کیونکہ وہ مال اس طرح خرچ نہیں